خطبات نور — Page 561
Fj یکم مارچ ۱۹۱۳ء 561 خطبہ جمعہ اشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَايِ ذِي الْقُرْبَى وَ يَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنكَرِ وَ الْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - النحل ) اللہ تعالی جو حکم کرتا ہے وہ سب انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔وہ تم کو بھی کہتا ہے کہ صراط مستقیم پر چلو کیونکہ نہ اس میں زیادتی ہوتی ہے نہ کمی ہوتی ہے۔کسی کو دیوانہ پاگل سٹری اس وقت کہتے ہیں جب کوئی حد سے تجاوز کر جائے۔جو شخص سارا دن ہوتا چلا جائے یا نمازوں میں لگ جائے کہ صبح کی نماز شروع کی اور عصر کا وقت کر دیا تو ایسا شخص اگر چہ نماز پڑھتا ہے مگر دیوانہ ہے۔اسی طرح ایک شخص کی پانچ روپیہ تنخواہ ہو اور اس میں وہ چاہے کہ بیوی کا زیور بھی بن جائے، مکان بھی تیار ہو جائے اور ہم کو کسی کی محتاجی بھی نہ کرنی پڑے تو ایسے شخص کو پاگل ہی کہا جائے گا۔میں نے ایک چھوٹی لڑکی کو کسی بات پر خوش ہو کر ایک روپیہ دیا۔اس نے کہا کہ ایک تو یہ ہو گیا۔