خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 538 of 703

خطبات نور — Page 538

538 ہے۔اگر کوئی شخص کھانا کھانے کی بجائے روٹی کانوں میں ٹھونسنے لگے تو کیا وہ بچ جائے گا؟ اسی طرح بہت سے قانون ہیں۔جو ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو جاتے ہیں۔جھوٹے جھوٹ بولتے ہیں مگر ایک زمانہ کے بعد اگر وہ کبھی سچ بھی بولیں تب بھی کوئی ان کا اعتبار نہیں کرتا یہاں تک کہ اگر وہ قسمیں کھا کر بھی کوئی بات کہیں تو تب بھی کوئی یقین نہیں کرتا۔اسی طرح سست آدمی اپنی آبائی جائیداد تک بھی فروخت کر کے کھا جاتا ہے۔الْحَاقَّةُ مَا الْحَاقَّةُ تم جانتے ہو کہ ہونے والی باتیں ہو کر رہتی ہیں۔اور کس طرح ہو کر رہتی ہیں؟ مثل کی طرح سنو۔كَذَّبَتْ ثَمُودُ جن لوگوں نے حق کی مخالفت کی ان کو خدا نے ہلاک کر دیا۔ثمود قوم نے تکذیب کی۔اس کا انجام کیا ہوا ؟ ہمارے ملک میں سلاطین مغل، پٹھان ، سکھ وغیرہ تھے۔جب انہوں نے نافرمانی کی تو خدا نے ان کو ٹھونک ٹھونک کر ٹھیک کر دیا۔پیارو! اگر تم بدی کرو گے تو تم کو بدی کا ضرور نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا۔یاد رکھو بدی کے بدلہ میں کچھ سکھ نہیں مل سکتا۔عاد قوم بڑی زبردست تھی۔اس کو اللہ تعالیٰ نے ہوا سے تباہ کر دیا۔سات رات اور آٹھ دن متواتر ہوا چلی۔سب کا نام و نشان تک اڑا دیا۔بڑے بڑے عمائد قوم گرے جس طرح کھوکھلا درخت ہوا سے گر جاتا ہے۔بتاؤ تو سہی اب کہاں ہے رنجیت سنگھ اور ان کی اولاد ان کے بیٹے پوتے اور پڑپوتے؟ اس کا بیٹا ایک ہوٹل میں ایسی کس مپرسی کی حالت میں مرا کہ کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ کون تھا؟ وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهُ (الحاقة فرعون اور اس کی بستیوں کو الٹ کر پھینک دیا۔ایک میرے بڑے دوست شہزادہ تھے۔وہ بچارے خود کپڑاسی کر گزارہ کیا کرتے تھے۔اور ایک اور میرے دوست تھے۔وہ ان کو سینے کے لیے کپڑے لا دیا کرتے تھے اور خود دے آیا کرتے تھے۔انہوں نے ہی مجھے کہا کہ تم اس سے کپڑے سلوایا کرو۔خود دار بھی وہ ایسے تھے کہ کسی کو اس کی خبر تک ہونا گوارا نہیں کرتے تھے۔خود کبھی کسی سے کپڑا نہیں لیتے تھے اور اس عالم میں بھی ان کی مزاج سے وہ شاہانہ بو دور نہیں ہوئی تھی۔خمرے رکھا کرتے تھے۔کوئی اپنے حسن پر مغرور ہے۔کوئی اپنے علم پر اتراتا ہے۔کوئی اپنی طب پر اکڑتا ہے۔حالانکہ یہ سب غلط ہے۔جب تک خدا کا فضل نہ ہو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔سچ مچ یہ بات ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھرو گے۔خدار تم کرے میری ماں پر۔وہ کہا کرتی تھی کہ جو آگ کھائے گا وہ انگار مجھے گل ثمود نے ہمارے رسولوں کا انکار کیا۔ہم نے بھی ایسا پکڑا کہ کہیں نہ جانے دیا۔جانتے ہو کہ نوح کی قوم کو کس طرح غرق کیا؟ تم کو چاہئے تھا کہ اس سے عبرت حاصل کرتے۔دار السلام میں سولہ لاکھ آدمی