خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 499 of 703

خطبات نور — Page 499

499 کیا یہ انصاف ہے کہ تم کسی کا مال ضائع کردیا کسی کو نقصان پہنچاؤ یا کسی کے لڑکے یا لڑکی کو بد نظری سے دیکھو ؟ تم عدل سے کام لو اور وہ سلوک کسی سے نہ کرو جو خود اپنے آپ سے نہیں چاہتے۔اسی طرح جس سے پانچ دس روپے تنخواہ لیتے ہو اس کی فرمانبرداری کرتے ہو۔پس جس نے آنکھیں دیں جن سے ہم دیکھتے ہیں ، کان دیئے جن سے ہم سنتے ہیں، زبان دی جس سے ہم بولتے ہیں، ناک دیا، پاؤں دیئے جن سے ہم چلتے ہیں ، عقل، فہم، فراست دی، اتنے بڑے محسن اتنے بڑے مربی اتنے بڑے خالق رزاق کی نافرمانی کریں تو کیا یہ عدل ہے؟ بس میں تمہیں بھی چھوٹا سا فقرہ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْل سنانے آیا ہوں اور میں تمہیں دوسری دفعہ ، تیسری دفعہ چوتھی دفعہ تاکید کرتا ہوں کہ خدا کے معاملہ میں اپنے معاملہ میں، غیروں کے معاملہ میں عدل سے کام لو۔پھر اس سے ترقی کرو اور مخلوق الہی سے احسان کرو۔اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا مطالعہ کر کے اس کی فرمانبرداری میں بڑھو۔حلال روزی کماؤ۔حرام خوری سے نیکی کی توفیق نہیں ملتی۔شاہ عبد القادر صاحب اپنا جو تا مسجد کے باہر اتارا کرتے اور شاہ رفیع الدین اندر لے جاتے پھر بھی ضائع ہو جاتا۔شاہ عبد القادر صاحب نے بتایا کہ ہم باہر جو تا اتار کر یہ نیت کر لیتے ہیں کہ جو لے جائے اس کے لئے حلال۔چونکہ چور کمبخت کے نصیب نه میں رزق حلال نہیں اس لئے اس کو اسے اٹھانے کا موقع ہی نہیں ملتا۔غرض أكُل مَال بِالْبَاطِل کردو اور بیویوں کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آؤ۔بیوی ، بچوں کے جننے اور پالنے میں سخت تکلیف اٹھاتی ہے۔مرد کو اس کا ہزارواں حصہ بھی اس بارے میں تکلیف نہیں۔ان کے حقوق کی نگہداشت کرو۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ (البقرة :۱۲۹)۔ان کے قصوروں سے چشم پوشی کرو۔اللہ تعالیٰ بہتر سے بہتر بدلہ دے گا۔خطبہ ثانیہ دوسرے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بے حیائیوں سے اور ان امور سے جن سے دوسروں کو تکلیف پہنچے اور وہ منع کرے یا شریعت منع کرے اور بغاوت کی راہوں پر چلنے سے منع کرنا چاہتا ہے۔وہ سننا کس کام کا جس کے ساتھ عمل نہ ہو۔سنو! دل کو اس کے ساتھ حاضر کرو۔اَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ۔پھر عمل کرو۔اگر عمل نہیں تو کوئی نیکی کوئی ایمانداری کوئی وعظ کسی کام نہیں۔اس الحکم جلد ۱۵ نمبر ۱۴۴۷۰۰۰۲۴۴۲۳ جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۳)