خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 495 of 703

خطبات نور — Page 495

495 بھی پسند نہیں کرتی۔بارہا میں نے سنایا ہے کہ اگر پانچ سو اونٹ کی قطار ہو تو ایک لڑکا بھی ان کی تکمیل پکڑ کر لئے جاتا ہے۔لیکن اگر اسے کنوئیں میں دھکیلنا چاہو تو پانچ سو آدمی بھی ایک اونٹ کو پکڑ کر کھینچیں تو وہ آگے نہیں بڑھتا۔پس اسی طرح پر اگر انسان کو یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیسی قادر، رحیم، علیم، خبیر رب رحمان رحیم اور مالک یوم الدین اور وہ شہنشاہ احکم الحاکمین ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہر وقت یہ خواہش نہ ہو کہ اسے راضی کیا جاوے۔پھر اس نے اپنے رسولوں کی معرفت بتا دیا ہے کہ وہ کسی بدی پر راضی نہیں۔میں سمجھ ہی نہیں سکتا کہ ایک شخص ایمان حقیقی رکھ کر سب نبیوں کی مشترکہ تعلیم کی خلاف ورزی کیوں کرتا ہے؟ کیا کسی بھی نبی کی تعلیم ہے کہ جھوٹ بولیں، دنیا کے حریص ہوں، کاہل بد معاشوں سے تعلق پیدا کریں؟ خدا تعالیٰ اس کو کبھی پسند نہیں کرتا اور ان تمام بدیوں سے بچنے کی ایک ہی راہ ہے کہ اللہ پر ایمان ہو۔پس جو شخص مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ کا مصداق ہو وہ تمام نیکیوں کا گرویدہ اور بھلائیوں کا پسند کرنے والا ہو گا۔اگر اس طرح یہ سمجھ نہیں آتا تو ایک اور راہ ہے جس پر چل کر انسان بدیوں سے بچ سکتا ہے۔و الْيَوْمِ الْآخِرِ يوم آخرت پر ایمان ہو کہ بدیوں کی سزا ملے گی اور نیکیوں کا بدلہ نیک ملے گا۔اگر انسان جزائے اعمال کو مانتا ہو اور اسے ایمان ہو تو وہ بدیوں سے بچ جاتا ہے۔ایک شریف الطبع انسان کو کہہ دیں کہ دو روپیہ دیتے ہیں، بازار میں دو جوتے لگا لینے دو وہ کبھی پسند نہیں کرے گا۔پھر یوم آخرت میں کب کوئی گوارا کر سکتا ہے۔پس اس پر ایمان لا کر بدی نہیں کر سکتا۔میں جانتا ہوں کہ ایک نوکر اپنے فرض منصبی میں سستی کر کے تنخواہ پا سکتا ہے۔ایک اہل حرفہ دھوکہ دے کر قیمت وصول کر سکتا ہے۔ایک شخص دوست کو دھوکہ دے کر آؤ بھگت کر سکتا ہے۔یہ ممکن ہے لیکن اگر آخرت پر ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر ان اعمال کی جوابدہی کرتا ہے تو ایسا عاقبت اندیش بدی کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ایک لڑکا جو قلاقند کھاتا ہے اور باپ کو کہتا ہے کہ نب لئے تھے یا کاپی لی تھی، وہ سوچ لے کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ ایسا ہی جو لڑکا اپنے ہاتھوں سے اپنے قوائے شہوانی کو تحریک دیتا ہے، اس کا نتیجہ لازمی ہے کہ آنکھ اور دماغ خراب ہو جاوے۔ہر ایک کام کے انجام کو سوچو ! پھر نیکی کی تحریک کے لئے ملائک بڑی نعمت ہیں۔وہ انسان کے دل میں نیکی تحریک کرتے ہیں۔اگر کوئی ان کے کہنے کو مان لے تو اس طبقہ کے جو ملائکہ ہیں، وہ سب اس کے دوست ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں فرمایا۔نَحْنُ أَوْلَيْعُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (حم السجدہ:۳۲) ایسی پاک مخلوق کسی کی دوست ہو اور کیا خواہش ہو سکتی ہے؟ پھر ایمان بالکتاب ہے اللہ کے فرمان اور حکم نامہ سے بڑھ کر کیا حکم