خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 703

خطبات نور — Page 41

41 علیہم السلام اور ملوک کا پیدا کیا اور خدا تعالی کے ہر قسم کے فضل و کرم کے وارث اور ٹھیکیدار ہم ہی ہیں۔لیکن انھوں نے اس امر کے سمجھنے میں سخت غلطی کھائی کہ خدا تعالیٰ کے فضل کا انحصار اور اس کی رحمت و برکت کا مدار کسی کی قرابت پر ہے۔حالانکہ خدا کے نزدیک صرف ایک اور صرف ایک ہی بات تھی اور ہے جو اس کی نصرت تائید اور اس کے فضل و کرم کا موجب رہی ہے اور وہ بات قوموں کے در میان صلاح و تقویمی ہے۔مدتوں اس سے پہلے خدا فرما چکا تھا کہ جب بنی اسرائیل اس اصل کو چھوڑ دیں گے اور صلاح و تقویٰ سے دور جاپڑیں گے خدا تعالی کے فضل و رحمت کے وارث نہ رہیں گے اور ایک اور قوم پیدا کی جاوے گی جو متقی ہوں گے اور اس وعدہ کی زمین کے ، جس کے لئے قوم تڑپتی تھی، ہاں اسی ارض مقدس یعنی زمین شام کے وارث وہ بنیں گے۔اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھر خدا نے بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ اس وعدہ کے پورا ہونے کا وقت آیا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونہ سے ایک قوم تیار ہو رہی ہے جو داؤد علیہ السلام کی پیشگوئی کے موافق ارض مقدس کی وارث ہو گی۔مگر ہاں اس کے لئے راہ یہی ہے کہ عابد اور فرماں بردار بن جاؤ۔رسول کے آگے پست ہو جاؤ اور وہ تقویٰ جو خیال بناوٹ اپنی تجویز سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاک نمونہ اور خدا تعالیٰ کے فرمودہ نقشہ کے موافق ہے وہ اختیار کرو۔وَ ما أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِيْنَ اس کے ضمن میں نکلتا ہے کہ اگر اس رحمت کو اختیار نہ کرو گے اور اس کے نقش قدم پر چل کر اپنا چال چلن صلاح و تقویٰ نہ بناؤ گے تو ذلیل ہو کر ہلاک ہو جاؤ گے۔رسول اللہ پر حرف نہ آئے گا کیونکہ وہ تو رحمت مجسم ہے۔یہ بات کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخلوق کے لئے رحمت کر کے بھیجا ہے مراد عومی ہی دعوئی نہیں۔تاریخ بتلاتی ہے اور تجربہ صحیحہ گواہی دیتا ہے کہ جس قوم نے صدق دل سے روح اور راستی سے اس پاک نمونہ کی پیروی کی وہ قوم کیا سے کیا ہو گئی۔وہ بد نام اور ذلیل قوم جس میں کسی قسم کی خوبی نہیں تھی، وہ جنگجو وحشی بدوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کی اطاعت کرنے سے آخر اس ارض مقدس کے وارث ہوئے جس کے لئے بنی اسرائیل کی برگزیدہ قوم جنگلوں اور بیابانوں میں ترقی اور بھکتی رہی تھی۔بنو قریظہ اور بنو نضیر جو وارث بنے بیٹھے تھے کہاں گئے ؟ اس سے ایک سبق ملتا ہے۔بہت سے لوگ اپنی نحوستوں اور فلاکتوں، اپنے فقر و فاقہ کے متعلق چلاتے ہیں اور واویلا مچاتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ تنگ دستیوں اور فلاکتوں کے دور کرنے کے لئے ہیں