خطبات نور — Page 40
۸/دسمبر ۱۸۹۹ء 40 خطبہ جمعہ وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ انَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ - إِنَّ فِي هَذَا لَبَلْغَا لِّقَوْمٍ عُبِدِينَ - وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء۱۸۱۰۲) کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا:۔ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ بات لکھ دی تھی کہ اس زمین کے مالک میرے نیکوکار بندے ہوں گے۔اس بات میں جو زبور کی پیشگوئی کے متعلق بیان کی گئی ، فرماں بردار لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے اور ہم نے تجھ کو اے نبی! کل مخلوقات کے لئے رحمت کر کے بھیجا ہے۔اس آیت شریف کے پڑھنے سے میری یہ غرض نہیں کہ اس پیشگوئی کے متعلق شرح وبسط کے ساتھ بہت سی باتیں بیان کروں۔یہ ایک لمبا مضمون ہے۔اس وقت مجھے اپنی جماعت کو چند باتیں صلاح و تقویٰ کے متعلق سنانی منظور ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں کہ إِنَّ فِي هَذَا لَبَلْغَالِقَوْمٍ عَبِدِین ایک لگتی ہوئی بات سنائی ہے۔یہود ہمیشہ اپنے تئیں یہ سمجھتے تھے کہ ہم ابراہیم کے فرزند ہیں اور خدا نے ہم میں سے ایک بڑا سلسلہ انبیاء