خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 478 of 703

خطبات نور — Page 478

478 ? بیاہ کے معاملہ میں ایک بڑی غلطی ہو رہی ہے۔اور مجھے افسوس ہے کہ یہ میرے گھر میں بھی ہوئی ہے اس لئے کہ مجھ سے مشورہ نہیں کیا گیا اور وہ یہ ہے کہ اس کے لئے ضروری امر یہ ہے کہ بہت استخارہ کئے جاویں اور خدا تعالیٰ سے مدد طلب کی جاوے۔ہم انجام سے بے خبر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہے۔اس لئے اول خوب استخارہ کرو اور خدا سے مدد چاہو۔اور پھر اس کو یاد رکھو کہ کوئی نکاح بدوں ولی کے نہیں ہو سکتا۔میں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ خود پوچھا ہے اور آپ نے اس کو سخت ناپسند فرمایا کہ بدوں ولی کوئی نکاح کیا جاوے۔میں نے خود ایک نکاح کرنا چاہا تھا اور بعض علماء مثل مولوی نذیر حسین اور محمد حسین صاحب وغیرہ سے دریافت کیا اور مجھے بعض نے اجازت دی۔مگر میں ترساں تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس مسئلہ کو حل کر دیا۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا میں دیکھا۔اور آپ نے مجھے بتا دیا کہ بدوں ولی نکاح نہیں ہوتا اور آپ نے سخت ناپسندگی کا اظہار کیا بلکہ یہاں تک مجھ پر ظاہر ہوا کہ جو شخص ایسی جرات کرتا ہے۔وہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک اور آپ کی مونچھ مونڈ ڈالتا ہے۔پس یہ بڑی خطرناک بات ہے اس کو خوب یاد رکھو کہ بدوں ولی نکاح کبھی نہ ہو۔پھر ایک اور غلطی ہوتی ہے کہ نکاح کے معاملہ کو عورتوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔عورتوں کو ولی مت بناؤ۔یہ مردوں کا کام ہے۔قرآن مجید میں الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ آیا ہے۔اس لئے کبھی ایسی جرات نہ کرو جس سے قرآن مجید کی اس آیت کی ہتک لازم آوے۔خدا سے ڈرو اور توبہ کرو۔میں پھر کہتا ہوں۔عورتوں کو ولی نہ بناؤ۔عورتوں کو ولی نہ بناؤ۔عورتوں کو ولی نہ بناؤ۔اس کے بعد آپ نے حسب معمول عورتوں کے حقوق پر وعظ فرمایا اور شادی کی خصوصیتوں کو جو اسلام نے رکھی ہیں بیان کیا کہ محض تقویٰ کے لئے ہو اور کوئی غرض شادی کی نہیں۔یہ خطبہ آپ نے نہایت رقت اور جوش اور درد دل سے پڑھا۔میں نے اس سے پہلے متعدد مرتبہ اس امر کے متعلق بحث کی ہے کہ رشتہ اور ناطوں کے معاملات کلیتاً حضرت خلیفۃ المسیح کے ہاتھ میں دے دینے چاہئیں اس لئے کہ آپ سے بڑھ کر کون ہمدرد اور سچا خیر خواہ ہو گا۔اس خطبہ میں ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ خلیفہ بن کر مجھ پر بہت بڑا بوجھ پڑا ہے اگر خدا تعالیٰ ہی کا فضل نہ ہوتا اور اس کی غریب نوازی میری دستگیری نہ کرتی تو میں اس بوجھ کے اٹھانے کے قابل نہ تھا۔مگر اس نے اپنے فضل سے مجھے قوت دی جس کا ایک بیٹا بیمار ہو اس کی حالت کا اندازہ مشکل ہوتا ہے پھر جس کے لاکھوں بیٹے ہوں اور مختلف حاجتوں اور بوجھوں سے ان کی حالت اس کے لئے درد کا باعث ہو۔اندازہ بھی نہیں ہو سکتا کہ اسے