خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 449 of 703

خطبات نور — Page 449

2: 449 حضرت جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لوگوں کو دین سکھانے کے لئے آئے اور پہلا سوال یہی کیا کہ يَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلامِ (بخاری کتاب الایمان)۔اسلام نام ہے فرمانبرداری کا۔سارے جہان کو تو موقع نہیں کہ اللہ کی باتیں سنے۔اس لئے پہلے نبی سنتا ہے پھر اوروں کو سناتا ہے۔سو پہلا مرتبہ یہی ہے کہ نبی کی صحبت میں رہے اور اس سے فرمانبرداری کی راہیں سنے اور سیکھے۔چنانچہ اس بناء پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سمجھایا کہ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْيِيكُمُ الله (ال عمران (۳۲) یعنی سردست تم میرے تابع ہو جاؤ۔اس کی تعمیل میں اسلام لانے والوں نے جیسا انہیں نبی کریم نے سمجھایا کیا کلمہ سکھایا، کلمہ پڑھ لیا۔نماز سکھائی تو نماز پڑھ لی۔روزہ، حج، زکوۃ جس طرح فرمایا اسی طرح ادا کیا۔یہ اسلام ہے۔چنانچہ جبرائیل کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں۔الْإِسْلَامُ اَنْ تَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ وَ تُقِيمَ الصَّلوةَ وَ تُؤْتِي الزَّكَوةَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَ تَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً (بخاری کتاب الايمان - باب سوال جبريل النبي عن الايمان و الاسلام مگر چونکہ منافق لوگ بھی ایسی باتوں میں شریک ہو سکتے ہیں اس لئے اس سے اوپر ایک اور مرتبہ ہے۔وہ یوں کہ جب انسان یہ اعمال کرتا ہے اور ان کے فوائد و ثمرات مرتب ہوتے ہیں تو پھر عقائد اس کے دل میں گڑ جاتے ہیں۔یہ ایمان کا مرتبہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوگ آتے تو آپکی باتیں سنتے اور آہستہ آہستہ وہی باتیں دل کے اندر گڑ جاتیں اور اس طرح پر انکو اسلام سے ایمان کا رتبہ ملتا اور وہ کئی ظلمات سے نکل کر نور میں آ جاتے۔پہلی ظلمت تو کفار کی مجلس تھی جس کو چھوڑ کر وہ حضور نبوی میں آئے۔صلی اللہ علیہ و آلہ و سامرا میں نے کئی ڈاکوؤں سے پوچھا ہے کہ تمہیں کبھی رحم نہیں آتا۔تم کیسے حیرت انگیز بے رحمی کے کام کرتے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں رحم آتا ہے مگر تنہائی میں۔لیکن جب ہم اپنے ہمجولیوں میں بیٹھتے ہیں تو پھر سب کچھ بھول جاتا ہے۔یہ ان کی صحبت کی ظلمت کا اثر ہے۔مواعیظ نبوی آہستہ آہستہ اثر کرتے رہے۔پھر اللہ کے احکام کی تعمیل کا شوق پیدا ہوتا ہے اور چونکہ احکام الہی کے مظہر اول ملائکہ ہوتے ہیں اس لئے ان پر ایمان لاتا ہے جو اس کے دل میں پاک تحریکیں کرتے ہیں تو یہ ان کی تحریکات کی فرمانبرداری کرتا ہے۔پھر اس کے بعد چونکہ ملائکہ کا تعلق شدید نبی سے ہوتا ہے اس لئے اس کی باتوں پر