خطبات نور — Page 442
۳۱ دسمبر ۱۹۰۹ء 442 خطبہ جمعہ حضور نے آیت قرآنی إِنَّ الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِیم (لقمان: ۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تین بار مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ شرک کیا چیز ہے؟ اس سوال سے مجھے رنج بھی ہوا، تعجب بھی افسوس بھی۔قرآن کریم سارا اسی کے رو سے بھرا ہوا ہے۔پھر شرک کے سب سے بڑے دشمن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت سے شرک کا پتہ لگ سکتا ہے۔شرک وہ بری چیز ہے کہ اس کی نسبت خدا نے فرما دیا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذلِكَ (النساء:۲۹)۔سب سے پہلا کلام جو انسان کے کان میں بوقت پیدائش و بلوغ ڈالا جاتا ہے وہ شرک کی تردید میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے۔یہ ایک بحث ہے کہ کان بہتر ہیں یا آنکھیں ؟ مولود کے کان میں اذان کہنے کی سنت سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔اگر یہ لغو فعل ہو تا تو کبھی رسول کی سنت موکدہ نہ بنتا۔یقظہ نومی جو بیماری ہے اس کے عجائبات سے بھی اس کی علمتیں معلوم ہو