خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 438 of 703

خطبات نور — Page 438

۲۴ دسمبر ۱۹۰۹ء 438 عید کے جمعہ کا خطبہ حضرت امیر المومنین نے بأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوة مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذكر الله (الجمعه) پڑھ کر فرمایا کہ ہر جمعہ میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ کوئی شخص تم کو وعظ سنائے اور اتنا وقت ہو کہ نماز سے پہلے سن لو۔اس کے بعد نماز پڑھو۔نماز کے بعد تم کو اختیار ہے کہ دنیوی کاموں میں لگ جاؤ۔میں اس کے حکم کے مطابق تم کو نصیحت کرتا ہوں۔اللہ نے ہم کو کچھ اعضاء دئے ہیں اور ان اعضاء پر حکومت بخشی ہے اور پھر انسان کو اپنی صفات کا مظہر بنایا۔چونکہ خدا مالک ہے اس لئے انسان کو بھی مالک بنایا اور اس کو بہت بڑا لشکر دیا جن میں سے دو چار نوکروں کا میں ذکر کرتا ہوں۔حضرت نبی کریم میل ل و ل ﷺ نے فرمایا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (بخاری کتاب التفسير سورة الجمعه) سب کے سب بادشاہ ہو اور تم سے اپنی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔(۲) الْاِمَامُ رَاعٍ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ - بخاری کتاب التفسير سورة الجمعه) امام بھی راعی ہوتا ہے اور اس سے رسول کی رعایا کی نسبت سوال ہو گا۔(۳) عورت کے بارے میں بھی فرمایا کہ عَنْ بَيْتِ زَوْجِهَا (بخاری کتاب الاحکام)۔میں ان بادشاہوں کا ذکر نہیں کرتا جو ملکوں پر حکمرانی کرتے ہیں بلکہ ان کا ذکر کرتا