خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 424 of 703

خطبات نور — Page 424

424 وَيُبَيِّنُ ايَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (البقرة : ۲۱۹ تا۲۲۲ ) - اور پھر فرمایا:۔ان چار آیتوں میں جو پہلی آیت ہے اس میں ایک غلطی کی اصلاح ہے جو نہ صرف چھوٹوں میں پائی جاتی ہے بلکہ بڑوں میں بھی اور وہ یہ ہے کہ " مستحق کرامت گناہ گارانند “ کا مصرعہ زبان پر رہتا ہے جس نے بہت لوگوں کو بے باکی کا سبق دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللَّهِ رحمت الہی کے مستحق تو وہ لوگ ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں۔اول ایمان باللہ یعنی یہ یقین ہو کہ تمام خوبیوں سے موصوف اور تمام نقصوں سے منزہ ذات اللہ کی ہے۔پھر ملائکہ پر ایمان ہو یعنی ان کی تحریک پر عمل کیا جاوے۔پھر کتب اللہ پر ایمان ہو۔نبیوں پر ایمان ہو۔یوم آخرت پر ایمان ہو۔صرف عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ ہی نہ کے بلکہ رَحْمَةُ الْقَبْرِ حَقٌّ بھی۔تقدیر (یعنی ہر چیز کے اندازے اللہ تعالیٰ نے بنارکھے ہیں) پر ایمان ہو۔پھر اس ایمان کے مطابق عملدرآمد بھی ہو۔عیسائیوں نے دھو کہ دیا ہے اور وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ نجات فضل سے یا ایمان سے یا عمل سے؟ ہمارا جواب یہ ہے کہ نجات فضل سے ہے کیونکہ قرآن شریف میں ہے اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ (فاطر ۳۶)۔مگر اس فضل کا جاذب ایمان ہے اور جیسا کسی کا ایمان مضبوط ہے اسی کے مطابق اس کے عمل ہوتے ہیں۔اسی واسطے یہاں امَنُوا کا ذکر فرما دیا کیونکہ اعمال ایمان کے ساتھ لازم ملزوم ہیں۔چنانچہ اس ایمان کا ایک نشان ظاہر کیا ہے کہ تمام مقدمات کی بناء تو زمین ہے مگر جب انسان ایمان میں کامل ہو جاتا ہے تو پھر وہ خدا کے لئے اس زمین کو بھی چھوڑ دیتا ہے یعنی ہجرت۔کیونکہ کسی چیز کو اللہ کے لئے چھوڑ دینا بہت بڑا عمل صالح ہے۔پھر فرمایا۔ایمان کا مقتضی اس سے بھی بڑھ کر ہے وہ کیا؟ جَاهِدُوا فِي اللهِ (الحج:9) یعنی اس کا دن اس کی رات اس کا علم اس کا فہم اس کی محبت اس کی عداوت اس کا سونا اور اس کا جاگنا، غرض کردار گفتار رفتار سارے کے سارے اس کوشش میں ہوں کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ قدوس ہے۔اس کا مقرب نہیں بن سکتا مگر وہی جو پاک ہو۔انسان بے شک کمزور ہے اس لئے وہ غلطیوں کو بخشنے والا ہے مگر اپنی طرف سے کوشش ضروری ہے۔مومن میں استقلال و ہمت ضرورنی ہے۔یہ غلط خیال ہے کہ نبیوں نے اس وقت مقابلہ کیا جب ان کا جتھا ہو گیا۔حضرت نوح کے جتھے کا کیا حال تھا؟ مَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ (هود (۳) جب آپ کو مقابلہ کی ضرورت پڑی تو ایک جملہ سے وہ کام لیا جو کل دنیا کی فوج نہیں کر سکتی۔یعنی لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا (نوح:۳۷)۔حضرت