خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 384 of 703

خطبات نور — Page 384

384 سلطنت اللہ کے کام دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک تو ایسے کہ ان میں انسان کو مطلق دخل نہیں۔مثلاً اب سردی ہے اور آفتاب ہم سے دور چلا گیا ہے۔پھر گرمی ہو جائے گی اور آفتاب قریب آجائے گا۔یہ کام اپنے ہی بندوں کی معرفت کرایا اور ان لوگوں کو سمجھایا کہ یہ بادشاہ اب ہلاک ہونے والا ہے۔پس تم مید وفارس کے بادشاہوں سے تعلق پیدا کرو کیونکہ عنقریب یہ دکھ دینے والی قوم اور ان کی - ہلاک ہو جائے گی۔پس اللہ نے دو فرشتے ہاروت ماروت نازل کئے۔ہرت کہتے ہیں زمین کو مصفا کرنے کو اور مرت زمین کو بالکل چٹیل میدان بنا دینا۔گویا یہ امران فرشتوں کے فرض میں داخل تھا کہ یہ لوگ برباد ہو جائیں اور بنی اسرئیل نجات پا کے اپنے ملک میں جائیں۔پس وہ ہاروت ماروت نبیوں کی معرفت ایسی باتیں سکھاتے تھے اور ساتھ ہی یہ ہدایت کرتے تھے کہ ان تجاویز کو یہاں تک مخفی رکھو کہ اپنی بیٹیوں کو بھی نہ بتاؤ کیونکہ عورتیں کمزور مزاج کی ہوتی ہیں اور ممکن بلکہ اغلب ہے کہ وہ کسی دوسرے سے کہہ دیں۔پس اس تعلیم کو پوشیدہ رکھنے کے لحاظ سے میاں بی بی میں بھی افتراق ہو جاتا تھا یعنی میاں اپنی بی بی کو اس راز سے مطلع نہ کرتا تھا۔اور پھر یہ بات جب پختہ ہو گئی تو مید و فارس کے ذریعہ بائل تباہ ہو گیا اور خدا نے بنی اسرائیل کو بچالیا مگر جتنا ضرر دشمنوں کو پہنچایا گیا چونکہ اللہ کے اذن سے تھا اسی واسطے وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو مکہ والوں کو بڑا غیظ و غضب پیدا ہوا۔پس انہوں نے یہودیوں سے دوستی گانٹھی اور یہودی وہی پرانا نسخہ استعمال کرنے لگے کہ آؤ کسی بادشاہ سے ملکر اس محمدی سلطنت کا استیصال کریں۔اسی واسطے ایرانیوں سے توسل پیدا کیا۔یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ایرانیوں کے گورنر عرب کے بعض مضافات میں بھی تھے۔انہوں نے اپنے بعض آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کے لئے بھی بھجوائے مگر کچھ کامیابی نہ ہوئی۔اس کی وجہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آگے تو تم اے یہودیو! خدا کے حکم سے ایسے منصوبوں میں کامیاب ہوئے تھے۔اب تم چونکہ یہ نسخہ اللہ کے رسول کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہو اس لئے ہر گز کامیاب نہ ہو گے۔چنانچہ چند آدمی شاہ فارس کی طرف سے گرفتار کرنے آئے۔آپ نے ان کو فرمایا میں کل جواب دوں گا۔صبح آپ نے فرمایا کہ جس نے تمہیں میری طرف بھیجا ہے اس کے بیٹے نے اسے قتل کر دیا ہے۔وہ یہ بات سن کر بہت حیران ہوئے (ہات میں بات آگئی ہے۔ہر چند کہ وہ ایسی عظیم الشان نہیں ہے۔وہ یہ کہ جب وہ ایلچی نبی کریم کے حضور آئے تو صبح صبح داڑھیاں منڈوا کر آئے۔آپ نے فرمایا یہ تم کیا کرتے ہو۔ہم اس امر کو کراہت کے ساتھ دیکھتے ہیں۔جہاں اوپر کا قصہ لکھا ہے وہاں یہ بات بھی ہے۔