خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 381 of 703

خطبات نور — Page 381

۔381 کو دو ضرورتیں ہیں۔ایک جسمانی جیسے عزت اولاد ان کے اخراجات کھانے کے لئے چیزیں۔ایک روحانی۔جبرائیل کے بعد ایسی تحریکوں کا مرکز میکائیل ہے۔اللہ نے دین بنایا، دنیا بھی بنائی۔یہ جہان بھی بنایا وہ جہان بھی۔دونوں تحریکوں کا مرکز ہمارے نبی کریم کا قلب مبارک تھا۔اسی لئے فرمایا أُوتِيتُ جَوَامِعَ الكَلِم (بخاری کتاب التعبير - مسلم کتاب المساجد)۔قرآن شریف میں دنیا و دین دونوں کے متعلق ہدایتیں ہیں۔بہت سے لوگ ہیں کہ جب فرشتوں کی تحریک ہوتی ہے تو وہ اس تحریک کو پیچھے ڈال دیتے ہیں اور اللہ کی پاک آیات کو واہیات بتاتے ہیں۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ جب قبض وغیرہ ہو تو انسان میکائیلی تحریکوں کے ماننے کو تیار ہو جاتا ہے مگر جب روحانی قبض ہو تو پھر کہتے ہیں کہ خیر اللہ غفور رحیم ہے۔اس کی جڑ یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو مقدم کر لیتا ہے۔حضرت سلیمان کے عہد میں جب لوگوں کو امن حاصل ہوا اور مال ثروت کی فراوانی ہوئی تو ان میں نئی نئی تحریکیں ہونے لگیں۔آسمانی کتب کا جو مجموعہ ان کے پاس تھا اس سے طبیعت اکتا گئی تو کسی اور تعلیم کی خواہش ہوئی مگر وہ تعلیم ایسی تھی جو خدا پھینکنے والی تھی۔نقش سلیمانی وغیرہ اسی تعلیم کی یادگار بعض مسلمانوں میں مروج ہے۔بنی اسرائیل نے جب خدا کی کتاب سے دل اٹھایا تو ان لغو باتوں میں پڑ گئے جو بعض شیطانی اثروں کے لحاظ سے دلربا باتیں بن گئیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا۔یہ سب اس زمانہ کے شریروں کی کارروائی ہے۔سلیمان علیہ السلام نے ان کو یہ تعلیم نہیں دی بلکہ از خود یہ باتیں انہوں نے گھڑ لیں اور ایسی دلربا باتوں کی اشاعت کی۔سے دور (پدر جلد ۸ نمبر ۱۵-۴۰ فروری ۱۹۰۹ء صفحه) ⭑-⭑-⭑-⭑