خطبات نور — Page 380
380 يَضُرُّهُمْ وَلا يَنْفَعُهُمْ وَ لَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَريهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔(البقرة:۹۸ تا ۱۰۳) اور پھر فرمایا:۔میں نے بارہا سنایا کہ ملائکہ پر ایمان لانے کا منشاء کیا ہے؟ صرف وجود کا ماننا تو غیر ضروری ہے۔اس طرح تو پھر ستاروں، آسمانوں، شیطانوں کا ماننا بھی ضروری ہو گا۔پس ملائکہ پر ایمان لانے سے یہ مراد ہے کہ بیٹھے بیٹھے جو کبھی نیکی کا خیال پیدا ہوتا ہے اس کا محرک فرشتہ سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔کیونکہ جب وہ تحریک ہوتی ہے تو وہ موقع ہوتا ہے نیکی کرنے کا۔اگر انسان اس وقت نیکی نہ کرے تو ملك اس شخص سے محبت کم کر دیتا ہے پھر نیکی کی تحریک بہت کم کرتا ہے اور جوں جوں انسان بے پرواہ ہوتا جائے وہ اپنی تحریکات کو کم کرتا جاتا ہے اور اگر وہ اس تحریک پر عمل کرے تو پھر ملک اور بھی زیادہ تحریکیں کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اس شخص سے تعلقات محبت قائم ہوتے جاتے ہیں بلکہ اور فرشتوں سے بھی یہی تعلق پیدا ہو کر تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ (حم السجدۃ:۳) کا وقت آجاتا ہے۔یہاں خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے دو فرشتوں کا ذکر کیا ہے۔ان میں ایک کا نام جبرائیل ہے۔دوسرے مقام پر اس کے بارے میں فرمایا ہے۔اِنَّهُ لَقَولُ رَسُوْلِ كَرِيْمٍ ذِى قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينِ - مُّطَاع ثُمَّ آمِين (التکویر ۲۰ تا۳۲) یعنی وہ رسول ہے اعلیٰ درجہ کی عزت والا طاقتوں والا رتبے والا اور ملائکہ اس کے ماتحت چلتے ہیں۔اللہ کی رحمتوں کے خزانہ کا امین ہے۔پس جب یہ امر مسلم ہے کہ تمام دنیا میں ملائکہ کی تحریک سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے اور ملائکہ کی فرمانبرداری مومن کا فرض ہے تو پھر ملائکہ کے اس سردار کی تحریک اور بات تو ضرور مان لینی چاہئے۔چونکہ یہ تمام محکموں کا افسر ہے اس کی باتیں بھی جامع ہیں۔پس ہر ایک ہدایت کی جڑ یہی جبرائیل ہے جس کی شان میں ہے فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قلبك یعنی اس کی تمام تحریکوں کا بڑا مرکز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب ہے۔پس ہمہ تن اس کے احکام کے تابع ہو جاؤ کیونکہ یہ جامع تحریکات جمیع ملائکہ ہے اور اسی لحاظ سے قرآن شریف جامع کتاب ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ (البينه:۴)۔تو گویا جو جبرائیل کا منکر ہے وہ اللہ کا دشمن ہے۔پھر اللہ کے کلام کا کافر ہے پھر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا مخالف ہے۔پھر ایک اور ملک کا ذکر فرمایا ہے۔جہاں تک میں نے سوچا ہے حضرت ابراہیم کی دعا رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة:٢٠٢) سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے کہ انسان