خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 361 of 703

خطبات نور — Page 361

۲۵ ستمبر ۱۹۰۸ء 361 خطبه جمعه حضرت امیرالمومنین نے سورۃ البقرہ کی آیات ۳۶ تا ۴۰ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔خدا تعالیٰ آدم علیہ السلام کا ذکر کر کے ان کی اولاد کو سناتا ہے کہ اے آدم! تو اور تیری عورت اس جگہ رہو اور اس درخت سے کچھ نہ کھانا۔درخت کے معنوں میں بڑا اختلاف کیا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ نے اس کا نام نہیں لیا اس واسطے میں اس کی تشریح غیر ضروری خیال کرتا ہوں۔صرف حکم ہے کہ اس کا پھل نہ کھاؤ۔میں طبیب ہوں۔بعض لوگوں کو آم کھانے سے روکتا ہوں، بعض کو امرود سے بعض کو دوسرے پھلوں سے۔خدا تعالیٰ نے ایسے ہی آدم کو منع کیا کہ اس پھل کو نہ کھاؤ۔یہ دکھ دینے والی چیز ہے۔کیونکہ وہ علیم و حکیم خدا اس کے مضرات کو جانتا ہے۔خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنا اپنے آپ کو تکلیف اور دکھ میں ڈالنا ہے۔تکالیف کے اسباب میں سے گناہ بھی ایک سبب ہے، تم اس سے بچو۔گو خدا تعالیٰ نے وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (المائدة:) کہا ہے۔مگر نَبلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (الاعراف:۲۴) اور بَلَوْنَهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَ السيات (الاعراف (1) اور ابراہیم علیہ السلام کے قصہ میں لکھا ہے إِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ