خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 340 of 703

خطبات نور — Page 340

340 سے مستفید ہوتے ہیں۔ان کے سائے میں آرام پاتے ہیں۔ان کے پھلوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔میوے، شربت غذا ئیں دوائیں اور مقوی اشیاء خوردنی ان سے مہیا ہوتی ہیں۔ان کے پتوں اور ان کی لکڑی سے بھی فائدہ اٹھاتے ہو۔گٹھلی کیسی ایک حقیر اور ذلیل چیز ہوتی ہے مگر جب وہ خدائی تصرف میں آکر خدا کی ربوبیت کے نیچے آجاتی ہے تو اس سے کیا کا کیا بن جاتا ہے۔غرض اس چھوٹی سی سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ فلق کے نیچے باریک دربار یک عمتیں رکھی ہیں اور انسان کو ترقی کی راہ بتائی ہے کہ دیکھو جب کوئی چیز میرے قبضہ قدرت اور ربوبیت کے ماتحت آجاتی ہے تو پھر وہ کس طرح ادنیٰ اور ارذل حالت سے اعلیٰ بن جاتی ہے۔پس انسان کو لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو مد نظر رکھ کر اور اس کی کامل قدرت کا یقین کر کے اور اس کے اسماء اور صفات کاملہ کو پیش نظر رکھ کر اس سے دعا کرے تو اللہ تعالٰی ضرور اسے بڑھاتا اور ترقی دیتا ہے۔مجھے ایک دفعہ ایک نہایت مشکل امر کے واسطے اس دعا سے کام لینے سے کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں لاہور گیا۔میرے آشنا نے مجھے ایک جگہ لے جانے کے واسطے کہا اور میں اس کے ساتھ ہو لیا۔مگر نہیں معلوم کہ کہاں لے جاتا ہے اور کیا کام ہے؟ اس طرح کی بے علمی میں وہ مجھے ایک مسجد میں لے گیا جہاں بہت لوگ جمع تھے۔قرائن سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ کسی مباحثہ کی تیاری ہے۔میری چونکہ نماز عشا باقی تھی میں نے ان سے کہا کہ مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ مجھے ایک موقع مل گیا کہ میں دعا کر لوں۔خدا کی قدرت! اس وقت میں نے اس سورۃ کو بطور دعا پڑھا اور باریک در بار یک رنگ میں اس دعا کو وسیع کر دیا اور دعا کی کہ اے خدائے قادر و توانا! تیرا نام فَالِقُ الْإِصْبَاحِ فَالقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى ہے۔میں ظلمات میں ہوں، میری تمام ظلمتیں دور کر دے اور مجھے ایک نور عطا کر جس سے میں ہر ایک ظلمت کے شر سے تیری پناہ میں آجاؤں۔تو مجھے ہر امر میں ایک حجت نیرہ اور برہان قاطعہ اور فرقان عطا فرما۔میں اگر اندھیروں میں ہوں اور کوئی علم مجھ میں نہیں ہے تو تو ان ظلمات کو مجھ سے دور کر کے وہ علوم مجھے عطا فرما اور اگر میں ایک دانے یا گٹھلی کی طرح کمزور اور ردی چیز ہوں تو تو مجھے اپنے قبضہ قدرت اور ربوبیت میں لے کر اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا۔غرض اس وقت میں نے اس رنگ میں دعا کی اور اس کو وسیع کیا جتنا کہ کر سکتا تھا۔بعدہ میں نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کی طرف مخاطب ہوا۔خدا کی قدرت کہ اس وقت جو مولوی میرے ساتھ مباحثہ کرنے کے واسطے تیار کیا گیا تھا وہ بخاری لے کر میرے سامنے بڑے ادب سے شاگردوں کی طرح بیٹھ گیا اور کہا یہ مجھے آپ پڑھادیں۔وہ صلح حدیبیہ کی ایک حدیث تھی۔حضرت مرزا صاحب کے متعلق اس میں کوئی ذکر نہ تھا۔