خطبات نور — Page 339
339 نہایت تاکیدی حکم دیا ہے کہ رات کے وقت گھروں کے دروازے بند کر لیا کرو۔کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانک کر رکھا کرو خصوصاً جب اندھیرے کا ابتدا ہو۔ا۔بچوں کو ایسے اوقات میں باہر نہ جانے دو کیونکہ وہ وقت شیاطین کے زور کا ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق جو کہ آج سے تیرہ سو برس پیشتر ایک امی بیابان عرب کے ریگستانوں کے رہنے والے کے منہ سے نکلا تھا آج اس روشنی اور علمی ترقی کے زمانہ میں بھی نہایت باریک در بار یک محنتوں اور کوششوں کی تحقیقات کے بعد بھی ہو رہی ہے۔جو کچھ آپ نے آج سے تیرہ سو برس پیشتر فرمایا تھا آج بڑی سرزنی اور ہزار کوشش کے بعد بھی کوئی سچا علم یا سائنس اسے جھوٹا نہیں کر سکا۔اس نئی تحقیقات سے جو کچھ ثابت ہوا ہے وہ بھی یہی ہے کہ کل موذی اجرام اندھیرے میں اور خصوصاً ابتداء اندھیرے میں جوش مارتے ہیں مگر لوگ بباعث غفلت ان امور کی قدر نہیں کرتے۔رات کی ظلمت میں عاشق اور معشوق، قیدی اور قید کننده ، بادشاہ اور فقیر، ظالم اور مظلوم سب ایک رنگ میں ہوتے ہیں اور سب پر غفلت طاری ہوتی ہے۔ادھر صبح ہوئی اور جانور بھی پھڑ پھڑانے لگے۔مرغ بھی آواز میں دینے لگے۔بعض خوش الحان آنے والی صبح کی خوشی میں اپنی پیاری راگنیاں گانے لگے۔غرض انسان، حیوان، چرند پرند سب پر خود بخود ایک قسم کا اثر ہو جاتا ہے اور جوں جوں روشنی زور پکڑتی جاتی ہے توں توں سب ہوش میں آتے جاتے ہیں۔گلی کوچے بازار دوکانیں ، جنگل ویرانے“ سب جو کہ رات کو بھیانک اور سنسان پڑے تھے ان میں چہل پہل اور رونق شروع ہو جاتی ہے۔گویا یہ بھی ایک قسم کا قیامت اور حشر کا نظارہ ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَالِقُ الْإِصْبَاحِ میں ہوں۔حب۔گیہوں، جو چاول وغیرہ اناج کے دانوں کو کہتے ہیں۔دیکھو کسان لوگ بھی کس طرح سے اپنے گھروں میں سے نکال کر باہر جنگلوں میں اور زمین میں پھینک آتے ہیں۔وہاں ان کو اندھیرے اور گرمی میں ایک کیڑا لگ جاتا ہے اور دانے کو مٹی کر دیتا ہے۔پھر وہ نشو و نما پاتا، پھیلتا پھولتا ہے اور کس طرح ایک ایک دانہ کا ہزار درہزار بن جاتا ہے۔اسی طرح ایک گٹک (گٹھلی) کیسی رہی اور ناکارہ چیز جانی گئی ہے۔لوگ آم کا رس چوس لیتے ہیں، گٹھلی پھینک دیتے ہیں۔عام طور سے غور کر کے دیکھ لو کہ گٹھلی کو ایک ردی اور بے فائدہ چیز جانا گیا ہے۔مختلف پھلوں میں جو چیز کھانے کے قابل ہوتی ہے وہ کھائی جاتی ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں فَالِقُ الْحَب وَالنَّوَى (الانعام ۹۲) ہوں۔اس چیز کو جسے تم لوگ ایک ردی سمجھ کر پھینک دیتے ہو اس سے کیسے کیسے درخت پیدا کرتا ہوں کہ انسان، حیوان، چرند پرند سب اس