خطبات نور — Page 288
288 ہر ایک نیکی تب ہی ہو سکتی ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نیچے ہو۔اس کے بعد میں نے کچھ آیتیں پڑھی ہیں۔ان میں عام لوگوں کو نصیحت ہے کہ نکاح کیوں ہوتے ہیں اور نکاح کرنے والوں کو کن امور کا لحاظ رکھنا چاہیے؟ مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے معدوم سے بنایا ہے اور یہ شان ربوبیت ہے۔نکاح بھی ربوبیت کا ایک مظہر ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ (النساء:۲)۔یہ ایک سورۃ کا ابتداء ہے۔اس سورۃ میں معاشرت کے اصولوں اور میاں بیوی کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے۔یہ آئیتیں نکاح کے خطبوں میں پڑھی جاتی ہیں اور غرض یہی ہوتی ہے کہ تا ان حقوق کو مد نظر رکھا جاوے۔اس سورۃ کو اللہ تعالیٰ نے يايُّهَا النَّاسُ سے شروع فرمایا ہے۔النَّاسُ جو انس سے تعلق رکھتا ہے تو میاں بیوی کا تعلق اور نکاح کا تعلق بھی ایک انس ہی کو چاہتا ہے تا کہ دو اجنبی وجود متحد فی الا رادہ ہو جائیں۔غرض فرمایا۔لوگو! تقویٰ اختیار کرو۔اپنے رب سے ڈرو۔وہ رب جس نے تم کو ایک جیسے بنایا اور اسی جنس سے تمہاری بیوی بنائی اور پھر دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں۔خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا سے یہ مراد ہے کہ اسی جنس کی بیوی بنائی۔اس آیت میں اِتَّقُوا رَبَّكُمْ جو فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کی اصل غرض " تقوی" ہونی چاہئے اور قرآن مجید سے یہی بات ثابت ہے۔نکاح تو اس لئے ہے کہ ”احصان“ اور ”عفت" کی برکات کو حاصل کرے۔مگر عام طور پر لوگ اس غرض کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ وہ دولتمندی حسن و جمال اور جاہ و جلال کو دیکھتے ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ (بخاری كتاب النکاح باب الاكفاء فی الدین)۔بہت سے لوگ خدو خال میں محو ہوتے ہیں جن میں جلد تر تغیر واقع ہو جاتا ہے۔ڈاکٹروں کے قول کے موافق تو سات سال کے بعد وہ گوشت پوست ہی نہیں رہتا۔مگر عام طور پر لوگ جانتے ہیں کہ عمر اور حوادث کے ماتحت خدو خال میں تغیر ہو تا رہتا ہے اس لئے یہ ایسی چیز نہیں جس میں انسان محو ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی اصل غرض تقوی بیان فرمائی۔دیندار ماں باپ کی اولاد ہو۔دیندار ہو۔پس تقویٰ کرو اور رحم کے فرائض کو پورا کرو۔میں تمہارے لئے نصیحتیں کرتا ہوں۔یہ تعلق بڑی ذمہ داری کا تعلق ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے نکاح جو اغراض حب پر ہوتے ہیں ان سے جو اولاد ہوتی ہے وہ ایسی نہیں ہوتی جو اس کی روح اور زندگی کو بہشت کر کے