خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 239 of 703

خطبات نور — Page 239

239 یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ ہزاروں ہزار ہم سے پہلے گزرے جن کی دلی خواہش تھی کہ وہ اس کے چہرہ کو دیکھ سکتے۔پر انہیں یہ بات حاصل نہ ہوئی اور ہزاروں ہزار اس زمانہ کے بعد آئیں گے جو یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ مامور کا چہرہ دیکھتے پر ان کے واسطے یہ وقت پھر نہ آئے گا۔یہ وہ زمانہ ہے کہ عجیب در عجیب تحریکیں دنیا میں زور شور کے ساتھ ہو رہی ہیں اور ایک ہل چل مچ رہی ہے۔عربی زبان دنیا میں خاص طور پر ترقی کر رہی ہے۔کتا بیں کثرت سے شائع ہو رہی ہیں۔وہ عیسائیت کی عمارت جس کو ہاتھ لگانے سے خود ہمارے ابتدائی عمر کے زمانہ میں لوگ خوف کھاتے تھے آج خود عیسائی قومیں اس مذہب کے عقائد سے متنفر ہو کر اس کے برخلاف کوشش میں ایسی سرگرم ہیں کہ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ (الحشر:۳) کے مصداق بن رہے ہیں اور شرک کے ناپاک عقائد سے بھاگ کر ان پاک اصول کی طرف اپنا رخ کر رہے ہیں جن کے قائم کرنے کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دنیا میں مبعوث ہوئے تھے۔یہ سب واقعات قرآن شریف کی اس پیشگوئی کی صداقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر) تحقیق ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں جیسا کہ الفاظ کی حفاظت یاد کرنے والوں اور لکھنے والوں کے ذریعہ سے ہوئی اور ہو رہی ہے۔یہ سب کچھ موجود ہے مگر خوش قسمت وہی ہے جو ان باتوں سے فائدہ اٹھائے۔جذبات نفس پر قابو رکھ کر خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرے۔مساکین اور یتامیٰ کو مال دیوے۔قسم قسم کے طریقوں سے رضاء جوئی اللہ تعالٰی کی کرے۔ایک وقت کا عمل دوسرے وقت کے عمل سے بعض دفعہ اتنا فرق رکھتا ہے کہ اول مہاجرین نے جہاں ایک مٹھی جو کی دی تھی، بعد میں آنے والا کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا دیتا تھا تو اس کی برابری نہ کر سکتا تھا۔سائل کو دو دکھی کو دو ذوی القربی کو دو۔نماز سنوار کر پڑھو۔مسنون تسبیح اور کلام شریف اور دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں بھی عرض معروض کرو تاکہ دلوں پر رقت طاری ہو۔غریبی میں امیری میں، مشکلات میں مقدمات میں، ہر حالت میں مستقل رہو اور صبر کو ہاتھ سے نہ دو۔تقویٰ کا ابتداء دعا خیرات اور صدقہ سے ہے اور آخر ان لوگوں میں شامل ہونے سے ہے جن کی نسبت فرمایا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا (حم السجده (۳) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر استقامت دکھلائی۔تقویٰ کرنے کے متعلق حکم کے بعد یہ حکم ہے کہ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ۔چاہے کہ ہر ایک نفس دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا تیاری کی ہے؟ انسان کے ساتھ ایک نفس لگا ہوا ہے جو ہر دقت مقبول ہے کیونکہ جسم انسانی ہر وقت تحلیل ہو رہا ہے۔جب اس نفس کے واسطے جو ہر وقت