خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 232 of 703

خطبات نور — Page 232

232 فَلْيَصُمْهُ (البقره: ۱۸)۔یہاں تک کہ مومن متبع کو روزے رکھتے رکھتے آخر عشرہ رمضان شریف کا بھی آگیا۔پس اب تو ظلمات جسمانیہ اور تکدرات ہیولا نیہ سے پاک وصاف ہو گیا تو عالم ملکوت کی تجلیات بھی اس کو ہونے لگیں اور طاق تاریخوں میں مکالمات الہیہ کا مورد ہو گیا اور یہی حقیقت ہے لیلۃ القدر کی جو آخری عشرہ میں ہوتی ہے اور اس لئے شارع اسلام نے تعیین لیلۃ القدر کی ۲۷ شب مقرر فرما دی کیونکہ در صورت ۲۹ دن ہونے شہر رمضان کے وہی ۲۷ شب آخری طاق شب ہو جاتی ہے، جس میں تحمیل روحانی انسان تتبع کے حاصل ہو سکتی ہے۔اس لئے یہ شب ۲۷ کی ایک عجیب مبارک شب ہے جس میں قرآن مجید بھی نازل ہوا۔کما قال اللہ تعالٰی إِنَّا اَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَا أَدْرِيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر :٣-٣- ايضاً قال تعالى - إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ (الدخان:۴)۔اور چونکہ یہ شب مبارک اور لیلۃ القدر دونوں رمضان شریف ہی میں ہوتی ہیں لہذا ان تینوں آیتوں میں کوئی اختلاف بھی باقی نہیں رہا۔اور اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ میں ضمیر نہ کر غائب کا مرجع اس لئے مذکور نہیں ہوا ہے کہ جملہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے اشد درجہ منتظر تھے کیونکہ تمام کتب میں آپ کی بشارات اور صفات حمیدہ موجود تھیں اور اب تک موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام آپ کے منہ میں ڈالا جانا بھی بائیبل میں اب تک پایا جاتا ہے۔اس لئے اس کلام الہی کے نزول کا بھی ان کو سخت انتظار تھا اور نیز مشرکین عرب اپنے باپ دادوں سے سنتے چلے آتے تھے کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے بنی اسمعیل میں ایک نبی عظیم الشان مبعوث ہونے والا ہے۔لہذا جملہ اہل مذاہب اور اہل کتاب کو اس نبی آخر الزمان اور نزول کلام الہی کا انتظار تھا اور ان میں آپ کی بعثت کا ذکر خیر رہتا تھا جیسا کہ سورہ بینہ کی ہماری تفسیر سے واضح ہے۔اس لئے اَنْزَلْنَاہ کے مرجع کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی بلکہ مرجع کے ذکر کرنے میں وہ نکتہ حاصل نہ ہو تا تھا جو اس کے عدم ذکر کرنے میں ایک لطیفہ حاصل ہوا۔اس لئے مرجع ضمیر "انزلناہ" کا ذکر سابق میں نہیں کیا گیا۔کیونکہ اس کا ذکر تو کل اہل کتاب اور مشرکین عرب میں موجود ہے۔اسی طرح پر ا الهام إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِّنَ الْقَادِيَانِ ایم این احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۲۹۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر) میں بھی مرجع کا ذکر نہیں فرمایا گیا۔چونکہ اب بھی کوئی فرقہ مذہبی اس قرن میں ایسا موجود نہیں ہے جو ایک مصلح کامل کا منتظر نہ ہو۔اہل کتاب یہود و نصاری بھی مسیح اور الیاس کے نزول کے منتظر ہیں اور اہل اسلام بھی مہدی معہود اور مسیح موعود کے نزول کا انتظار کر رہے ہیں اور ہنود بھی کلنکی او تار کرشن علیہ السلام کی آمد کے لئے منتظر بیٹھے ہوئے ہیں اور تمام عقلاء اور علماء کی انجمنیں ایک مصلح کامل کو بلا