خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 225 of 703

خطبات نور — Page 225

225 اب آگے یہ فرمایا جاتا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی روبراہ ہوتا ہے اور جس کو وہ بھٹکا دیوے، وہی لوگ ہیں ٹوٹا پانے والے۔مطلب صرف یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایت لائے ہیں اس کے مضبوط پکڑنے سے ہی انسان رو براہ ہوتا ہے اور اپنے خیالات اور ہوا و ہوس کی اتباع سے منزل مقصود کو نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اس نے اپنی ہوا و ہوس کو معبود قرار دے لیا نہ اللہ تعالیٰ کو۔کما قال الله تعالى- أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ (الجاثیه: ۲۴) بلکہ ایسے لوگوں کو بجز خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ کے اور کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔اور چونکہ ذرائع ہدایت کے یعنی قرآن مجید اور رسول کریم خاتم النبین اور فطرت صحیحہ کو اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کے لئے دنیا میں بھیجا ہے جس کی اتباع سے اهتدا حاصل ہوتا ہے اور نیز قوائے نفسانی و شہوانی و غضبانی بھی انسان میں اسی اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں جن کی پیروی سے انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان کو اپنے افعال اختیار یہ میں کچھ دخل ہی نہ ہو وے اور محض مجبور ہی ہو۔حَاشَاوَ كَلَّا۔ورنہ پھر انہیں آیات (یعنی سورہ اعراف کی آیات (۱۷۸۱۷۶ میں فَانْسَلَخَ - اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ وغيرها كا اسناد انسان کی طرف کیوں کیا گیا ہے؟ یعنی جبکہ انسان سے یہ امور فتیح وقوع میں آ جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اضلال یعنی منزل مقصود کو نہ پہنچانا ہی ظہور میں آتا ہے اور اگر بندہ اتباع ہدایات الہیہ میں سعی و کوشش کرتا ہے تو اس کے لئے انہیں آیات کے قبل یہ فرمایا گیا ہے كم وَالَّذِيْنَ يُمْسِكُونَ بِالْكِتَبِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ إِنَّا لَأَنْضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ (الاعراف (1) ( بدر جلد ۲ نمبر۲۱ ---- ۲۴۰ / مئی ۱۹۰۶ء صفحه ۹ تا ۱۱)