خطبات نور — Page 215
215 کی متفق علیہ سے بھی روگردانی کرو تو اے مسلمانو! تم کہہ دو کہ تم تو بالضرور دین اسلام سے جو دین اللہ ہے خارج ہو گئے۔گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان فرمانبردار ہیں تاکہ یہ گواہی تمہاری باعث ہماری نجات کا اور موجب تمہاری ہلاکت کا ہو جاوے۔چنانچہ مسلمون بالآخر کامیاب ہو گئے اور یہ آیت بھی ایک نشان کامل نبوت کا ہو گئی۔ان آیات میں بتدریج تمام عجیب طرح سے ارشاد و ہدایت میں مبالغہ فرمایا گیا ہے۔اولاً حضرت عیسی کے حالات اور جو ان پر واردات واقع ہوئی تھی ان کو بیان فرمایا کیونکہ وہ تمام حالات منافی الوہیت کے ہیں۔اور پھر توحید اسلامی پر دلائل قاطعہ بیان فرمائے گئے۔لیکن طرف مخالف سے بجز عناد کے تسلیم و انقیاد کا کہیں نشان نہ پایا گیا۔تب مباہلہ کی نوبت پہنچی لیکن انہوں نے مباہلہ سے بھی عاجز ہو کر جزیہ دینا قبول کیا۔پھر بالآخر ایسے تین امور کی طرف دعوت کی گئی ہے کہ وہ تینوں امر متفق علیہ فریقین کے ہیں۔تاہم ایسے مفید ہیں کہ اگر وہ تینوں امر قبول کر لئے جاویں تو تمام نزاعات رفع ہو سکتے ہیں۔امر اول یہ ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی غیر اللہ کی عبادت نہ کی جاوے جس کی طرف تورات وانا جیل اور قرآن مجید بالاتفاق ہدایت فرما رہے ہیں۔یہ ایک ایسا امر ہے کہ اگر اس کو بصدق دل قبول کر لیا جاوے تو تمام اختلافات بیرونی و اندرونی کا اس سے فیصلہ ہوا جاتا ہے۔دوسرا امر یہ ہے کہ اللہ کی ذات، صفات اور افعال میں غیر اللہ کو شریک نہ کیا جاوے۔یہ امردوم بھی ایسا ایک کلیہ ہے کہ تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے اور چونکہ یہ تمام شرکیہ عقائد یا اعمال و اقوال بدعیہ جو دنیا میں جاری ہیں، ان کا بڑا سبب یہ ہے کہ اقوال علماء کے جو بدعیہ ہیں اور افعال احبار کے جو شرکیہ ہیں ان کے ساتھ تمسک کیا جاتا ہے، جس سے ایک خلقت گمراہ ہو گئی ہے لہذا تیسرا امر فیصلہ کن یہ ہے کہ علماء اور احبار کو اپنا رب نہ قرار دیا جاوے۔اس طرح پر کہ ان کے اقوال اور اعمال اور روایات کا ذبہ کے تقلید واجب سمجھی جاوے۔کیونکہ علماء اور احبار کے اقوال یا اعمال کی تقلید واجب سمجھنا بموجب حدیث ذیل عدی بن حاتم کے ان کو اپنا رب قرار دینا ہے۔تفسیر ابو السعود وغیرہ تفاسیر اور کتب احادیث میں یہ حدیث لکھی ہوئی ہے کہ لَمَّا نَزَلَتِ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتَمَ مَا كُنَّا نَعْبُدُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَلَيْسَ كَانُوا يُحِلُّونَ لَكُمْ وَيُحَرِّمُونَ فَتَاخُذُونَ بِقَوْلِهِمْ قَالَ نَعَمْ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ ذَاكَ سُبْحَانَ اللَّهِ - يه مینوں کلمے جو ان آیات میں مذکور ہوئے ہیں، اگر کوئی انسان ان تینوں کو اپنا متمسک گردان کردستور العمل اپنا قرار دے لیوے تو تمام بدعات اور عقائد باطلہ شرکیہ اور اعمال بدعیہ سے نجات پا کر صراط مستقیم پر