خطبات نور — Page 216
خطبات توب 216 لگ جاوے۔اس مسیح موعود کے جو مخالفین ہیں، انہوں نے بھی ان کلیات سہ گانہ پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔اس لئے فنی كُلِّ وَادٍيَّهِيمُونَ (الشعراء ۳۲۲) کے مصداق ہو رہے ہیں اور لطف یہ ہے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ بھی اسی ترتیب سے واقع ہوئی ہے جو سورۃ آل عمران میں واقع ہوئی ہے اور یہ بھی ایک شہوت ہے اس کے مریم اور عیسی موعود ہونے کا کیونکہ مریم اور عیسی آل عمران سے تھے، ان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وَجَعَلْنَاهَا وَ ابْنَهَا آيَةٌ لِلْعَالَمِينَ (الانبياء:۹۲)۔لیکن ظاہر ہے کہ یہ پیشین گوئی مندرجہ آیت کی کہ تمام عوالم کے لئے ان دونوں کا وجود ایک نشان ہو جاوے گا، پہلے زمانہ میں تو واقع نہیں ہوئی۔اول تو ان دونوں کو یہود نے تہمت ناجائز کے ساتھ متم کیا اور نصاریٰ نے حضرت عیسی کو تین روز تک ملعون قرار دیا۔پھر تمام عالم میں ان کے بارہ میں شرک شائع ہو گیا حتی کہ وہی شرک اہل اسلام میں بھی سرایت کر گیا۔پھر وہ دونوں تمام عالموں کے لئے نشان الہی کیونکر ہو گئے۔مگر علم الہی میں ضروری تھا کہ تمام عالموں کے لئے یہ ایک نشان ہو جاویں گے لہذا حسب وعدہ الہی ان کے نام کے ساتھ نامزد ہو کر امت محمدیہ میں سے ایک ایسا مجدد عظیم الشان آیات و نشانات کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا کہ ان کے نام کو تمام دنیا میں اور ان کی عظمت اور کرامت کو مع توحید الہی اور تکریم حضرت رسالت پناہی کے روشن کر رہا ہے۔صدق الله تَعَالَى وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً العلمین۔اور یہی سر ہے اس آخر زمانہ پر فتن میں ایک مجدد کے مبعوث ہونے کا بنام عیسی بن مریم۔ورنہ مخالفین ہم کو اس آیت کے معنی بتادیں کہ حضرت مریم اور عیسی تمام عالموں کے لئے کیونکر آیت اللہ ہو سکتے ہیں۔مگر ان کی قطعیت وفات ملحوظ رہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۶ ۱۰۰۰۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحه ۹ تا ۱)