خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 204 of 703

خطبات نور — Page 204

204 حضرت مریم کی والدہ نے حالت حمل ہی میں یہ نذر کر کر یہ دعا کی کہ فَتَقَبَّلُ مِنی۔اس میں سریہ تھا کہ ان کی تمنا دلی یہ تھی کہ وہ بچہ پیٹ ہی میں اللہ تعالیٰ کا مقبول اور محبوب ہو جاوے جس کو عرف میں مادر زاد ولی کہتے ہیں۔اسی لئے انہوں نے دو صفتوں سمیع و علیم کا بیان کیا کہ جس اخلاص سے میں نے تیری جناب میں یہ دعا کی ہے تیرے سوا اور کوئی اس کا سننے والا نہیں اور جو میری تمنائے دلی ہے اس کا علیم و خبیر تیرے سوا اور کوئی نہیں ہے۔یہ قصہ حضرت مریم کی والدہ کے نذر کرنے کا اس لئے یاد دلایا گیا کہ وہاں تو حضرت حنا کی دعا سے مریم کو پیدا کیا تھا اور امت محمدیہ میں حسب الحکم آیت سورہ تحریم کے ہم خود ایک ایسا غلام احمد پیدا کریں گے کہ مریم صفت ہو کر دین محمدی کا ایسا خادم ہو گا کہ دنیا کے کاموں سے بالکل آزاد اور محرر ہو گا اور اللہ تعالیٰ کا محبوب اور مقبول ہو گا۔اس لئے الہامات میں اس مسیح موعود کا نام مریم بھی آیا ہے۔معنی مریم کے کتب لغات میں خادم کے ہی لکھے ہیں۔یعنی خادم احمد یا غلام احمد یہ دونوں جو قریب المعنی ہیں۔اب فرمایا جاتا ہے کہ پس جبکہ جنا اس کو۔کہا۔اے رب میرے تحقیق میں نے جنا اس کو لڑکی اور اللہ کو بہتر معلوم ہے جو کچھ جنی۔اور بیٹا نہیں ہے مانند اس بیٹی کے اور تحقیق میں نے نام رکھا اس کا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے۔فائدہ: حنا والدہ مریم کو یہ خیال تھا کہ میرے شکم میں لڑکا ہی ہے اور لڑکا ہی محرر کیا جاتا تھا جبکہ ان کے لڑکی پیدا ہوئی تو ان کو یہ خیال آیا کہ شاید میری نذر قبول نہ ہوئی کیونکہ لڑکی واسطے خدمت بیت المقدس کے یا دیگر خدمات دینیہ کے لئے محرر نہیں ہو سکتی۔اس لئے جناب باری میں یہ عذر کیا یا بسبب حسرت کے یہ مقولہ کہا ہو۔مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کی قدر و عزت خوب جاننا ہے اور لڑکا اس لڑکی کی برابری نہیں کر سکتا۔تفسیر کبیر وغیرہ میں اس کی دو تو جیہیں لکھی ہیں۔اول تو یہ کہ تفضیل لڑکے کی لڑکی پر مراد الہی ہے۔دوسرے یہ کہ تفضیل اس لڑکی کی لڑکے پر مقصود ہے۔پس کلام الہی دونوں تو جیہوں کو متحمل ہے۔یہ کلام جو زوالوجین فرمایا گیا اس میں سر یہ ہے کہ امت محمدیہ میں جو خیر الامم ہے ایک مجدد عظیم الشان بنام مریم علم الہی میں مذکر آنیوالا تھا جو دین محمدی کو زندہ کرے گا۔لہذا ایسا کلام ذو الوجهین فرمایا گیا کہ دونوں وجہوں پر صادق آسکے۔ہاں اس قدر فرق ہے کہ وہاں تو والدہ مریم نے ہی لڑکی کا مریم نام رکھا تھا اور یہاں پر اللہ تعالیٰ نے خود بذریعہ الہام کے اس مجدد عظیم الشان کا نام مریم رکھا اور چونکہ یہ مجدد ایک لڑکی کے ساتھ تو ام پیدا ہوا اور وہ لڑکی توام انہیں ایام میں وفات پاگئی لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فعل سے بھی یہ شہادت دی کہ اب دین عیسوی باقی نہ رہے گا۔(جس میں محض مادہ اناث ہے کیونکہ عیسی صرف مریم کے مادہ ہی سے پیدا ہوئے تھے اور مرد کا اس میں