خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 205 of 703

خطبات نور — Page 205

205 کچھ دخل نہیں تھا بلکہ دین محمدی اس لڑکے سے زندہ کیا جاوے گا اور مادہ اناث فوت ہو جاوے گا۔کیونکہ لَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثى (ال عمران:۳۷) اور یہی مراد ہے اس شعر سے جو حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس بہتر غلام احمد ہے لیکن ہاں چونکہ حضرت اقدس بنی اسرائیل میں سے ہیں لہذا دعا حضرت حنا کی اس لڑکی کے حق میں بھی ، جس کا نام خود اللہ تعالیٰ نے مریم رکھا ہے، قبول فرمائی گئی اور کیونکر قبول نہ فرمائی جاتی کہ یہاں پر تو خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہی نام اس کا مریم رکھا ہے۔معنی مریم کے خادمہ کے ہیں یعنی خادمہ دین اور پھر دیکھو دوسری قدرت اللہ تعالیٰ کی کہ والدین سے جو اس کا نام اللہ تعالیٰ نے رکھوایا وہ بھی ہم معنی مریم کے رکھوایا یعنی غلام احمد قادیانی جس میں اس کے سن بعثت کی تاریخ کا پتہ بھی بتلا دیا گیا۔اور پھر اس مریم اور اس مریم میں ایک اور فرق بین ہے۔پہلی مریم تو خادمہ مسجد ہی تھیں اور یہ مریم جو غلام احمد ہے خادم دین اللہ الاسلام اور مجدد دین احمد علیہ السلام ہے۔وَشَتَّانِ بَيْنَهُمَا وَلَنِعْمَ مَا قِيلَ۔حج زیارت کردن خانه بود حج البيت مردانه بود پہلی مریم تو صرف خانہ خدا کی خدمت کے لئے پیدا کی گئیں اس لئے وہ انٹی رہی اور دوسرے مریم جو غلام احمد ہے دین اللہ کی خدمت اور تائید اسلام کے لئے مبعوث ہوئے اس لئے وہ مردانہ ہوئے۔پہلی مریم نے مسجد اقصیٰ کی بنیاد نہیں ڈالی تھی بلکہ صرف خادمہ تھیں۔لیکن غلام احمد نے قادیان میں مسجد اقصی کی بنیاد قائم کی۔پہلی مریم نے اپنی ذریت کے لئے مُخلِصالِلہ دعا کی تھی تب قبول ہوئی تھی اور غلام احمد کی ذریت کے انبات حسن" ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود الہاما اس کو اطلاع دی۔چنانچہ فرمایا جاتا ہے۔پس اس کے پروردگار نے مریم کو خوشی سے قبول فرمالیا اور اگایا اس کو اچھا اگانا" یعنی اس کی ذریت میں سے ایک فرزند کامل پیدا کیا۔فائدہ:۔یعنی وہاں پر حضرت عیسی کو پیدا کیا اور یہاں پر نفخ روح کر کر خدا نے اسی مریم کی ذات کو عیسیٰ كرديا وَجَعَلْنَاكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَریم اور پھر علاوہ اس پر اس کی اولاد میں سے ایک فرزند کامل مکمل