خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 159 of 703

خطبات نور — Page 159

159 کافروں سے الگ اور مسلمانوں میں شمار ہونے لگ جاتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفتیں اور جنگیں اور بڑی بڑی خونریزیاں اور جانفشانیاں انہی دو حرفوں پر تھیں۔انہی حرفوں کے ذریعہ سے اجنبی لوگ دور دور سے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے بن جایا کرتے تھے۔کیا تمہارے خیال میں یہ کوئی منتر جنتر ہے؟ نہیں۔یہ کوئی منتر جنتر نہیں ہے کہ بے معنے منہ سے کہہ دینے سے کوئی شعبدہ نظر آجاتا ہے۔جب یہ بات ہے تو کیا ہر ایک مسلمان کا فرض نہیں ہے کہ وہ کم از کم غور تو کرلے کہ یہ ہے کیا؟ کہ جس کے ذریعے سے سو برس کا شریر النفس دشمن معتبر دوست بن جاتا ہے اور سو برس کا دوست اس کے انکار سے دشمن بن جاتا ہے۔پیدائش کے بعد کچھ خواہشیں ہوتی ہیں جو کہ انسان کو لگی ہوئی ہوتی ہیں۔بھوک چاہتی ہے کہ غذا ملے اور حکم میری ہو۔پیاس چاہتی ہے کہ ٹھنڈا پانی ملے۔آنکھ چاہتی ہے کہ کوئی خوش منظر نے سامنے موجود ہو۔کان چاہتے ہیں کہ سریلی اور میٹھی آواز ان میں پہنچے۔اسی طرح ہر ایک قوت الگ الگ اپنا تقاضا وقتاً فوقتاً کرتی ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بعض وقت ایسے کام بھی کرتا ہے جن کو اس کا جی نہیں پسند کرتا۔بعض تو ان میں سے ایسے ہیں کہ قوم اپنے بیگانے برادری اور اہل محلہ اور شہر والوں کی مجبوری سے کرتا ہے اور بعض کام حاکموں کے ڈر سے کرنے پڑتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان میں کسی نہ کسی کی بات کے ماننے کا بھی مادہ موجود ہوتا ہے۔انسان تو درکنار حیوانوں میں بھی ہم ایک اطاعت کا مادہ پاتے ہیں۔بندروں کو دیکھو کہ کس طرح سے ایک شخص کی بات مانتے چلے جاتے ہیں اور اسی طرح سے سرکس میں کتے گھوڑے ، شیر ہاتھی وغیرہ بھی اپنے مالک کا کہا مانتے ہیں۔پس انسان کو حیوانوں سے متمیز ہونے کے لئے ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر اپنے آقا اور مولا کی اطاعت کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھوٹے سے کلمہ میں اول تو ہر ایک کو اپنے بیگانے یار دوست خویش ، ہمسائے اور نفس و خواہش کی فرماں برداری سے منع فرمایا ہے اور اس کلمہ کا اول حصہ لا إله ہے۔لیکن اگر کسی کا بھی کہا نہ مانا جاوے تو زندگی محال ہوتی ہے۔انسان نہ کہیں اٹھ سکتا ہے نہ بیٹھ سکتا ہے۔نہ کسی سے مل جل سکتا ہے نہ صلاح مشورہ لے سکتا ہے۔نہ کوئی کسب وغیرہ کر سکتا ہے اور اپنی ضروریات مثل بھوک، پیاس، لباس اور معاشرت وغیرہ سب سے اسے محروم رہنا پڑتا ہے۔اس لئے آگے الا اللہ کہہ کر ان سب باتوں کا گر بتلا دیا ہے کہ تم سب کچھ کرو لیکن اللہ کے فرماں بردار بن کر کرو۔پھر دیکھو کہ دنیا تمہاری بنتی ہے کہ نہیں۔کھانا کھاؤ۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ خدا کا حکم كُلُوا ہے۔پانی پیو۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ اِشْرِبُوا خدا کا حکم ہے۔اپنی بیبیوں -