خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 703

خطبات نور — Page 160

160۔معاشرت کرو۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ عَاشِرُوهُنَّ کا حکم ہے۔غرضیکہ اسی طرح سے اپنے بیگانے ماں باپ اور حکام وقت کی اطاعت وغیرہ سب کاموں کو خدا کے حکم اور اطاعت کے موافق بجالاؤ۔یہ معنے ہیں الا الله کے کہ میں حالت عسر اور یسر میں صرف خدا کا فرماں بردار ہوں۔اب انسان کو غور کرنا چاہئے کہ صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر صبح تک جس قدر حرکت و سکون وہ کرتا ہے اگر وہ خدا کے حکم سے اور فرمان کے بموجب کرتا ہے تو وہ اس کلمہ میں سچا ہے ورنہ وہ اسے کہنے کا کیونکر مستحق ہے۔میں یہاں کس لئے آیا ہوں۔دیکھو بھیرہ میں میرا مکان پختہ ہے اور یہاں میں نے کچے مکان بنوا لئے اور ہر طرح کی آسائش مجھے یہاں سے زیادہ وہاں مل سکتی تھی۔مگر میں نے دیکھا کہ میں بیمار ہوں اور بہت بیمار ہوں۔محتاج ہوں اور بہت محتاج ہوں۔لاچار ہوں اور بہت ہی لاچار ہوں۔پس میں اپنے ان دکھوں کے دور ہونے کے لئے یہاں ہوں۔اگر کوئی شخص قادیان اس لئے آتا ہے کہ وہ میرا نمونہ دیکھے یا یہاں آکر یا کچھ عرصہ رہ کر یہاں کے لوگوں کی شکایتیں کرے تو یہ اس کی غلطی ہے اور اس کی نظر دھوکا کھاتی ہے کہ وہ بیماروں کو تندرست خیال کر کے ان کا امتحان لیتا ہے۔یہاں کی دوستی اور تعلقات یہاں کا آنا اور یہاں سے جانا اور یہاں کی بود وباش سب کچھ لا الہ الا اللہ کے ماتحت ہونی چاہئے ورنہ اگر روٹیوں اور چارپائیوں وغیرہ کے لئے آتے ہو تو بابا! تم میں سے اکثروں کے گھر میں یہاں سے اچھی روٹیاں وغیرہ موجود ہیں پھر یہاں آنے کی ضرورت کیا ؟ تم اس اقرار کے قائل ٹھیک ٹھیک اسی وقت ہو سکتے ہو جب تمہارے سب کام خدا کے لئے ہوں۔اگر کوئی تمہارا دشمن ہے تو اس سے خوف مت کرو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلَ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا ایمان داروں اور نیک عمل کرنے والوں کے لئے ہم خود دوست مہیا کر دیں گے۔بڑی ضروری بات یہ ہے کہ تمہارا ایمان لا اله الا اللہ پر کامل ہو۔مطالعہ کرو کہ ایک چھوٹے سے کلمے کی اطاعت کی جو ایک انگلی کے ناخن پر کھلا لکھا جا سکتا ہے کس قدر تاکید ہے۔اس لئے اپنے ہر ایک کام اور عزت اور آبرو کے معاملہ میں اور سکھ اور دکھ میں جناب الہی سے صلح کرو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سوائے خدا کے سایہ کے اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔یہ واقعہ دنیا میں بھی پیش آتا ہے۔بیٹھے بٹھائے انسان کے پیٹ میں سخت درد شروع ہو جاتی ہے اور انسان ماہی بے آب کی طرح لوٹنے لگ جاتا ہے۔بیوی سے بڑھ کر غمگساری اور ماں سے بڑھ کر محبت میں اور کوئی نہیں ہوتا۔لیکن دونوں میں سے ایک بھی اس کے دکھ کو دور نہیں کر سکتی جب (مریم:۹۷) کہ