خطبات نور — Page 155
155 کے لئے بند نہیں ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سید الرسل، خاتم الانبیاء ہیں۔جن لوگوں نے آپ کا زمانہ پایا وہ آپ پر ایمان لائے اور متقی ہے۔لیکن آخر آپ فوت ہوئے اور ہمیشہ کے لئے ان لوگوں میں نہ رہے۔ہاں آپ کے انفاس طیبہ دیر تک رہے اور رہیں گے اور یہ ہر ایک نبی اور مامور کے ساتھ خدا کا فضل ہوتا ہے کہ کسی کے انفاس طیبہ بہت دیر تک رہتے ہیں، کسی کے تھوڑی دیر تک۔لیکن وہ بذات خود ان میں نہیں رہتے۔دیکھو جس مسیح کو دو ہزار برس سے زندہ کہتے تھے آخر وہ بھی مردہ ثابت ہوا۔اس کے پجاریوں نے اسے آسمان پر زندہ کہا مگر زمین نے مردہ ثابت کیا اور اس کے انفاس بھی مرگئے۔تعلیم کا یہ حال ہوا کہ خدا کا بیٹا بنایا گیا۔اسی لئے ہماری تعلیم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ عَبدُهُ وَرَسُولُهُ" کا لفظ ایزاد ہوا کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح گمراہ ہو کر متبوع کو خدا نہ بنا بیٹھیں اور جب خدا کی توحید کا بیان کریں تو ساتھ ہی ساتھ آپ کی عبودیت کا بھی ذکر کیا جاوے۔اگر ایسی تعلیم عیسائیوں کے ہاتھ ہوتی تو وہ گمراہ نہ ہوتے۔میں وقت کا ذکر کر رہا تھا۔پس تم کو چاہئے کہ وقت کا خیال رکھو۔یہ آج عید الفطر ہے۔پھر جو زندہ رہے تو دوسرے سال اسے پاوے گا۔امام کے ماننے کا بھی یہی وقت ہے جبکہ وہ زندہ موجود ہے۔اگر اس وقت نہ مانا تو پھر پچھتاؤ گے۔مومنوں پر تین وقت ہر ایک مامور کے ماننے والوں پر تین وقت ہوا کرتے ہیں اور صحابہ پر بھی وہ وقت تھے۔ایک تو مکہ کا جبکہ آنحضرت کو ہر طرف سے دکھ دیا جاتا تھا۔جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور اس وقت آپ کو بعض لوگوں نے مانا۔دوسرا وہ جبکہ آنحضرت مدینہ میں پہلے آئے اور بعض لوگ آپ پر ایمان لائے۔تیسرا وہ وقت جبکہ صحابہ دنیا کے فاتح ہو رہے تھے اور ملک پر ملک آپ کے قبضہ میں آرہا تھا۔اب سوچ لو کہ ان تین وقتوں میں جن جن لوگوں نے مانا اور خرچ کیا، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں؟ فتح مکہ سے اول جن لوگوں نے خرچ کیا تھا ان کی نسبت خود آنحضرت نے فرمایا کہ اب جو لوگ احد کے پہاڑ کے برابر سونا خرچ کریں تو ان کی وہ قدر نہیں ہو سکتی جو فتح مکہ سے اول ایک جو کی مٹھی کی ہو سکتی ہے۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے مقام اور ان کا وقت خالد بن ولید جیسے فاتح کے سامنے یہ فقرہ کہا تھا کہ تمہاری خدمات اور فتوحات ان لوگوں کے ہم پلہ