خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 147 of 703

خطبات نور — Page 147

147 یہ ماہ رمضان کی ہی شان میں فرمایا گیا ہے اور اس سے اس ماہ کی عظمت اور سرالہی کا پتہ لگتا ہے کہ اگر وہ اس ماہ میں دعائیں مانگیں تو میں قبول کروں گا لیکن ان کو چاہئے کہ میری باتوں کو قبول کریں اور مجھے مانیں۔انسان جس قدر خدا کی باتیں مانے میں قوی ہوتا ہے خدا بھی ویسے ہی اس کی باتیں مانتا ہے۔لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کو رشد سے بھی خاص تعلق ہے اور اس کا ذریعہ خدا پر ایمان اس کے احکام کی اتباع اور دعا کو قرار دیا ہے۔اور بھی باتیں ہیں جن سے قرب الہی حاصل ہو تا ہے۔آیت کا شان نزول ย جب صحابہ نے دیکھا کہ ایک ماہ رمضان کی یہ عظمت اور شان ہے اور اس قرب الہی کے حصول کے بڑے ذرائع موجود ہیں تو ان کے دل میں خیال گزرا کہ ممکن ہے کہ دوسرے چاندوں و مہینوں میں بھی کوئی ایسے ہی اسرار مخفیہ اور قرب الہی کے ذرائع موجود ہوں۔وہ معلوم ہو جاویں اور ہر ایک ماہ کے الگ الگ احکام کا حکم ہو جاوے۔اس لئے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دوسرے چاندوں کے احکام اور عبادات خاصہ بھی بتا دیئے جاویں۔ہلال اور قمر کا فرق یہاں لفظ اهلة کا استعمال ہوا ہے جو کہ ہلان کی جمع ہے۔بعض کے نزدیک تو پہلی، دوسری اور تیسری کے چاند کو اور بعض کے نزدیک ساتویں کے چاند کو ہلال کہتے ہیں اور پھر اس کے بعد قمر کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔احادیث میں جو مہدی کی علامات آئی ہیں ان میں سے مہدی کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ ایک ہی ماہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔وہاں چاند کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قمر کا لفظ استعمال کیا ہے اور اعلی درجہ کا قمر ۱۳۱۳ ۱۵ تاریخ کو ہوتا ہے اور اس کے گرہن کی بھی یہی تاریخیں مقرر ہیں۔اس سے کم زیادہ نہیں ہو سکتا۔اور ایسے ہی سورج گرہن کے لئے بھی ۲۷ ۲۹٬۲۸ تاریخ ماہ قمری کی مقرر ہے۔غرضیکہ قمر کا لفظ اپنے حقیقی معنوں کی رو سے مہدی کی علامت تھی۔لیکن لوگوں نے تصرف کر کے وہاں قمر کی بجائے ہلال کا لفظ ڈال دیا ہے اور یہ ان کی غلطی ہے۔ہر ایک نیا چاند انسانی زندگی کی مثال میں ایک سبق دیتا ہے