خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 143 of 703

خطبات نور — Page 143

143 تباہ اور ہلاک ہوں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز اور اپنی قربانیوں میں دکھا دیا کہ وہ ہمارا ہے۔ہم نے اپنی نصرتوں اور تائیدوں سے بتا دیا کہ ہم اس کے ہیں اور اس کے دشمنوں کا نام و نشان تک مٹا دیا۔آج ابو جہل کو کون جانتا ہے۔ماں باپ نے تو اس کا نام ابو الحکم رکھا تھا مگر آخر ابو جہل ٹھہرا۔وہ سید الوادی کہلا تا مگر بد تر مخلوق ٹھہرا۔وہ بلال جس کو ذلیل کرتے، ناک میں نکیل ڈالتے اس نے اللہ تعالیٰ کو مانا۔اسی کے سامنے ان کو ہلاک کر کے دکھا دیا۔غرض خدا کے ہو جاؤ وہ تمہارا ہو جائے گا مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللهُ لَہ۔میں دیکھتا ہوں کہ ہزاروں ہزار اعتراض مرزا صاحب پر کرتے ہیں۔مگر وہ وہی اعتراض ہیں جو پہلے برگزیدوں پر ہوئے۔انجام بتادے گا کہ راستباز کامیاب ہوتا ہے اور اس کے دشمن تباہ ہوتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے ورنہ نامراد مرتا ہے۔پس ایسے بنو کہ موت آوے خواہ وہ کسی وقت آوے مگر تم کو اللہ تعالی کا فرمانبردار پاوے۔یاد رکھو کہ مرکز اور مرتے ہوئے بھی اللہ کے ہونے والے نہیں مرتے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق دے۔جو اپنی اصلاح نہیں کرتا اور اپنا مطالعہ نہیں کرتا وہ پتھر ہے۔اور دنیا کے ایچ بیچے کام نہیں آتے۔کام آنے والی چیز نیکی اور اعمال صالحہ ہیں۔خدا سب کو توفیق عطا کرے۔آمین خطبہ ثانیہ میں اتنا ہی فرمایا کہ قربانیاں دو جو بیمار نہ ہوں ، دہلی نہ ہوں، بے آنکھ کی نہ ہوں“ کان چری نہ ہوں، عیب دار نہ ہوں، لنگڑی نہ ہوں۔اس میں اشارہ ہے کہ جب تک کامل طور پر قومی قربان نہ کرو گے ساری نیکیاں تمہاری ذات پر جلوہ گر نہ ہوں گی۔اصل منشا قربانی کا یہ ہے۔پھر جس کو مناسب سمجھتا ہووے۔کہ له (الحکم جلدے نمبر ۱۰-۱۷۰۰ار مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۱۴ تا ۱۶) الحکام جلدے نمبر۔۔۔۔۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۳ تا ۵)