خطبات نور — Page 118
جنوری ۱۹۰۳ء 118 خطبہ عید الفطر لا إكراه في الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقرة ٢٥٠) دین کے معاملہ میں جبر نہیں، وہ کھلی چیز ہے۔رُشد اور غنی الگ الگ چیزیں ہیں۔رُشد کے اختیار کرنے اور غنی کے چھوڑنے میں کسی اکراہ کی ضرورت نہیں۔اس آیت میں تین لفظ ہیں "دین"۔"رشد "۔اور "فی"۔الدین اللہ تعالی نے اپنی پاک کتاب میں جو "دین" کی توضیح اور تغییر فرمائی ہے وہ یہ ہے إِن الدِّينَ عِندَ الله الإسلام (ال عمران (۳۰) اللہ تعالیٰ کے حضور "دین" کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے ؟ الاسلام! اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ اللہ کا فرمانبردار ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کے فرمان کو لے اور اس پر روح اور راستی سے عمل درآمد کرے۔دین کے متعلق جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور سوال کیا ہے اور آپ نے صحابہ کرام کو بلکہ ہم کو آگاہ کیا ہے کہ یہ جبرائیل تھا۔آناكُمْ