خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 21
21 21 پھر فرماتے ہیں کہ وہ میرے متبعین کو میرے منکروں اور مخالفوں پر غلبہ دے گا لیکن غور بات یہ ہے کہ متبعین میں سے ہر شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرنے سے داخل نہیں ہوسکتا۔جب تک اپنے اندر وہ اتباع کی پوری کیفیت پیدا نہیں کرتا متبعین میں داخل نہیں ہوسکتا۔ایسی پیروی کہ گویا اطاعت میں فنا ہو جاوے اور نقشِ قدم پر چلے۔اس وقت تک اتباع کا لفظ صادق نہیں آتا۔فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسی جماعت میرے لئے مقدر کی ہے جو میری اطاعت میں فنا ہو اور پورے طور پر میری اتباع کرنے والی ہو۔“ فرمایا ” یہ ضروری امر ہے کہ میں تمہیں توجہ دلاؤں کہ تم خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرو اور اس کو مقدم کر لو اور اپنے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک جماعت کو ایک نمونہ سمجھو۔ان کے نقش قدم پر چلو۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 597-596 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہمارے سے یہ توقعات ہیں۔اگر ہم حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق جوڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔حقیقی متبع بننے کے لئے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔بوڑھوں ،عورتوں، نو جوانوں کو اپنے جائزے لینے ہوں گے۔والدین پیار سے بچوں کی نگرانی کریں والدین کو اپنے گھروں کی نگرانی کرنی ہوگی۔بچوں کے اٹھنے بیٹھنے اور نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔پیار سے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے آگاہ کریں۔یہ ماؤں کا بھی کام ہے، باپوں کا بھی کام ہے۔ایک احمدی مسلمان اور ایک غیر