خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 20
20 20 عزیز داریاں، ہمارے تعلقات، ہماری قرابت داریاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق میں حائل تو نہیں ہور ہے اور اس کے معیار کا علم ہمیں اس وقت ہوگا جب ہم آپ کی تعلیم ( جو اسلام کی حقیقی تعلیم ہے ) کا جو مکمل طور پر اپنے گلے میں ڈالنے والے ہوں گے یا اس کے لئے کوشش کرنے والے ہوں گے۔آپ نے اپنے بعد جس قدرتِ ثانیہ کے آنے کی خوشخبری دی تھی جو دائی ہو گی اس قدرت ثانیہ یعنی خلافت کے ساتھ کامل اطاعت اور وفا کا نمونہ بھی آپ دکھا ئیں گے۔اگر ہر ایک حقیقی تعلق کو قائم رکھنے کا عہد کرے گا تو وہ حقیقت میں آپ کی جماعت میں شمار ہوگا ورنہ احمدیت کا صرف لیبل ہے۔یہ نہ ہو کہ بعد میں آنے والے احمدی آگے نکل کر ان برکات سے فیض پالیں اور پرانے احمدی جن کے باپ دادا نے قربانیاں دے کر احمدیت کے چشمے اپنے گھروں میں جاری کئے تھے وہ اس چشمے سے محروم ہو جائیں۔پس بہت دعاؤں اور توجہ کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”یقینا سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ پیارے نہیں ہیں جن کی پوشاکیں عمدہ ہیں اور وہ بڑے دولت مند اور خوش خور ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ پیارے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اور خالص خدا کے لئے ہی ہو جاتے ہیں۔پس تم اس امر کی طرف توجہ کرو، نہ پہلے امر کی طرف۔پھر آپ فرماتے ہیں۔” وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ- یعنی اور وہ لوگ جنہوں نے تیری پیروی کی ان لوگوں پر جنہوں نے تیرا انکار کیا قیامت تک غالب رکھوں گا“۔یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دو تین دفعہ ہوا۔قرآن کریم کی آیت بھی ہے۔اور 1883ء میں شاید اس وقت پہلی دفعہ ہوا جب آپ کی جماعت کی ابھی بنیاد بھی نہیں پڑی تھی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں