خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 26

خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 11

11 روشن خیالی کے نام پر ان فلموں کو دیکھا جاتا ہے۔پھر بعض بد قسمت گھر عملاً ان برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔تو یہ جو زنا جو ہے یہ دماغ کا اور آنکھ کا زنا بھی ہوتا ہے اور پھر یہی زنا بڑھتے بڑھتے حقیقی برائیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ماں باپ شروع میں احتیاط نہیں کرتے اور جب پانی سرسے اونچا ہو جاتا ہے تو پھر افسوس کرتے اور روتے ہیں کہ ہماری نسل بگڑ گئی، ہماری اولادیں برباد ہوگئی ہیں۔اس لئے چاہئے کہ پہلے نظر رکھیں۔بیہودہ پروگراموں کے دوران بچوں کو ٹی وی کے سامنے نہ بیٹھنے دیں اور انٹرنیٹ پر بھی نظر رکھیں۔نو جوانوں کو جماعتی نظام کے ساتھ جوڑیں بعض ماں باپ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔جماعتی نظام کا کام ہے کہ ان کو اس بارے میں آگاہ کریں۔اسی طرح انصار اللہ ہے ، لجنہ ہے، خدام الاحمدیہ ہے یہ نظمیں اپنی اپنی تنظیموں کے ماتحت بھی ان برائیوں سے بچنے کے پروگرام بنا ئیں۔نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو جماعتی نظام سے اس طرح جوڑیں، اپنی تنظیموں کے ساتھ اس طرح جوڑیں کہ دین ان کو ہمیشہ مقدم رہے اور اس بارے میں ماں باپ کو بھی جماعتی نظام سے یا ذیلی تنظیموں سے بھر پور تعاون کرنا چاہئے۔اگر ماں باپ کسی قسم کی کمزوری دکھائیں گے تو اپنے بچوں کی ہلاکت کا سامان کر رہے ہوں گے۔خاص طور پر گھر کے جو نگران مرد ہیں یعنی ان کا سب سے زیادہ یہ فرض ہے اور ذمہ داری نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو جماعتی نظام سے اس طرح جوڑیں، اپنی ہے کہ اپنی تنظیموں کے ساتھ اس طرح جوڑیں کہ دین ان کو ہمیشہ مقدم رہے کو اس آگ میں گرنے سے بچائیں جس آگ کے عذاب سے خدا تعالیٰ نے آپ کو یا آپ کے اولا دوں بڑوں کو بچایا ہے اور اپنے فضل سے زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔