خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 17
17 مسلسل کوشش ہوتی رہنی چاہئے۔جماعت احمدیہ کی مثال دنیا کے سامنے پیش کریں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 195 ممالک میں جماعت قائم ہے۔کسی ایک جگہ بھی مثال دو، یہاں سوئٹزر لینڈ میں ہی مثال دو کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے کبھی کوئی قانون شکنی کی گئی ہو یا کسی بھی فساد میں جماعت نے حصہ لیا ہو، یا حکومت کے خلاف کسی بغاوت میں شامل ہوئے ہوں۔بلکہ قوانین کی مکمل پابندی کی جاتی ہے۔ہم ہیں جو ( دین حق ) کی حقیقی تصویر پیش کرنے والے ہیں۔ذاتی رابطوں سے اپنے تعلقات کو بھی وسیع کریں۔اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنے ماحول میں نہ بیٹھے رہیں۔جن کو زبان آتی ہے، جن کے اردگرد ماحول میں شرفاء ہیں وہ اس ماحول میں رابطے کریں۔تبلیغی میدان کو وسیع کریں۔جن کو صحیح طرح زبان نہیں آتی وہ کوئی لٹریچر لے کر تقسیم کرنا شروع کر دیں۔بہر حال پوری جماعت کے ہر فرد کو اس بات میں اپنے آپ کو ڈالنا ہوگا۔تبھی آپ کی تھوڑی تعداد بھی جو ہے وہ مؤثر کردارادا کرسکتی ہے۔کیونکہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا اور تبلیغ کی مہم میں اسلام کی اور دین کی عزت اور عظمت قائم کرنا ضروری ہے۔جب تک ہم ایک مسلسل جدوجہد کے ساتھ اپنی تعداد میں اضافے کی کوشش نہیں کرتے ہم دین کی عزت قائم کرنے اور اسلام کی ہمدردی کا حق ادا نہیں کر سکتے یا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔پر دو عورت کی عزت کے لئے ہے اسی طرح آج کل یورپ میں اسلام کو بدنام کرنے کا ایک ایشو پر دے کا بھی اٹھا ہوا ہے۔ہماری بچیاں جو ہیں اور عورتیں جو ہیں ان کا کام ہے کہ اس بارے میں ایک مہم کی صورت میں اخباروں میں مضامین اور خطوط لکھیں۔انگلستان میں یا جرمنی وغیرہ میں بچیوں نے اس