خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 26

خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 16

16 چاہئے کہ وہ احمدی ہونے کے ناطے احمدیت کا نمائندہ ہے۔اور ( دین حق کی حقیقی تصویر بننے کی اس نے کوشش کرنی ہے۔غیر احمدی مسلمانوں کی نظریں بھی ہم پر ہیں اور غیر مسلموں کی نظریں بھی ہم پر ہیں۔ہم یہ دعوی کر کے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں کہ ہم ( دین حق ) کی حقیقی تصویر ہیں۔جب ہم ( دین حق ) کی حقیقی تصویر ہیں تو اسلام کی عزت کو قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہمارے سپرد ہے۔ہم نے ایک نمونہ بنا ہے۔اور جب ہمارے نمونے ہوں گے تو تبھی ہم (دعوت الی اللہ ) کے میدان میں بھی ترقی کر سکتے ہیں۔دین کی عزت اور اسلام کی ہمدردی ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس عزت کو دنیا میں قائم کریں۔میناروں کا ایشو ہر وقت زندہ رکھیں آج جب کہ ہر طرف اسلام کے خلاف محاذ کھڑے کئے گئے ہیں آپ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔اسلام مخالف لوگوں نے یہاں اس ملک میں بھی اسلام کو بدنام کرنے کا ایک طریق اختیار کیا ہے کہ مسلمانوں کی مسجدوں کے مینارے نہ بننے دیئے جائیں۔اگر یہ مینارے ختم ہو گئے تو مسلمانوں کے جرائم اور ان کی دنیا میں فساد پیدا کرنے کی جوساری activities ہیں وہ بقول ان کے ختم ہو جائیں گی۔بے شک یہ میناروں کا فیصلہ تو ہو چکا ہے۔لیکن اس ایشو کو ہر وقت زندہ رکھیں۔وقتاً فوقتاً اخباروں میں لکھیں سیمینار کریں یا اور مختلف طریقوں سے اس طرف لوگوں کی توجہ کراتے رہیں۔جس طرح توجہ سے انہوں نے ریفرینڈم کروا کر یہ قانون پاس کروایا ہے اسی طرح ریفرینڈم سے قانون ختم بھی ہو سکتا ہے۔بے شک میناروں کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہے۔یہ تو بہت بعد میں بننے شروع ہوئے ہیں لیکن یہاں اسلام کی عزت کا سوال ہے کہ اسلام کو میناروں کے نام پر بدنام کیا جارہا ہے۔اس لئے