خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 26

خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 19

19 تو ٹھیک ہے پھر کوئی اور بہتر انتظام کر دے۔تو بہر حال ایک مہینہ تک وہ افسر اس بچی کو تنگ کرتا رہا کہ بس اتنے دن رہ گئے ہیں اس کے بعد تمہیں فارغ کر دیا جائے گا۔اور یہ بچی دعا کرتی رہی۔آخر ایک ماہ کے بعد یہ بچی تو اپنی کام پر قائم رہی لیکن اس افسر کو اس کے بالا افسر نے اس کی کسی غلطی کی وجہ سے فارغ کر دیا یا دوسری جگہ بھجوا دیا اور اس طرح اس کی جان چھوٹی۔اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو خدا تعالیٰ ایسے طریق سے مدد فرماتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کے الفاظ دل سے نکلتے ہیں۔9۔خلق اللہ سے ہمدری پھر نویں شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خلق اللہ سے ہمدری اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کا لکھا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) یہ بھی حقیقی رنگ میں اس وقت ہو سکتا ہے جب خالص ہمدردی کے جذبے کے تحت دنیا کو خدا تعالی کے قریب کرنے کی کوشش کریں اور انہیں کامل اور مکمل دین کے بارے میں بتا ئیں۔اور یہ اس وقت ہوگا جب پیغام پہنچانے والے کے اپنے عمل بھی اس تعلیم کے مطابق ہوں گے۔اور پھر ایک درد کے ساتھ ماحول میں پیغام پہنچانے کی کوشش کریں گے۔10۔مجھ سے اطاعت اور تعلق سب دنیا وی رشتوں سے زیادہ ہو شرائط بیعت کی آخری شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مجھ سے اطاعت اور تعلق سب دنیاوی رشتوں سے زیادہ ہو۔(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پس ہر ایک کو جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے رشتے ، ہماری