خطبة اِلہامِیّة — Page 73
خطبه الهاميه ۷۳ اردو ترجمہ كقسمة ضيزى ۔ وكان بوجہ اتم حاصل ہو جائے اور ایسی علمی تقتبہ اور ایسی نکمی تقسیم نہ ہو کہ هذا وعد الله وان وعد اس میں کمی زیادتی کسی قسم کی رہ جائے ۔ اور یہ الله لا يبدل ولا ینسی خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا اور یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ نہ قابل ۴۸) الحاشية ان قيل ان حاشیہ ۔ اگر کہا جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام المسيح قد خلق من غير اب من اب من بے باپ پیدا ہو ۔ را ہوئے تھے اور یہ اک امرفوق يد القدرة ۔ و هذا امر فوق العادة۔ العادت ہے ۔ پس شان مماثلت پوری نہیں فلايتم هناك شان المماثلة۔ وقد ہوتی ہے اور باہم مشابہت کا ہونا ضروری وجب المضاهاة كما لا يخفى على ہے جو سلیم الطبع لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہے ۔ القريحة الوقادة ۔ قلنا ان خلق * - ہم کہتے ہیں کہ انسان کا بے باپ پیدا کرنا انسان من غير اب داخل في عادة الله القدير الحكيم ۔ ولا نسلم انه عادت اللہ میں داخل ہے اور ہم اس کو قبول نہیں کرتے کہ یہ خارج از عادت ہے اور نہ خارج من العادة ولا هو حرى بالتسليم۔ فان الانسان قد يتولد لائق ہے کہ اس بات کو قبول کیا جائے کس لئے الامرأة وحدها ولو علی کہ انسان کبھی عورت عورت کے نطفہ سے بھی پیدا سبيل الندرة ۔ وليس هو بخارج ہو جاتا ہے اگر چہ بات نادر ہو اور یہ امر من قانون القدرة ۔ بل له قانون قدرت سے بھی خارج نہیں ہے بلکہ ہر ۴۸ نظائر وقصص في كل قوم قوم میں اس کی نظیریں پائی جاتی ہیں من نطفة الامرأة - الحاشية - الم تر ان ادم عليه حاشية - آیا تم نے نہیں دیکھا کہ حضرت السلام ما كان له ابوان فكون هذا آدم عليه السلام کا نہ کوئی باپ تھا اور نہ الامر من عادة الله ثابت من ابتداء ماں ۔ پس یہ امر عادت اللہ میں داخل ہونا الزمان۔ منه ابتدا زمانہ سے ہی ثابت ہے۔ منہ