خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vi of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page vi

(اردو ترجمہ ٹائٹل بار اوّل) یہ وہ کتاب ہے جس کا ایک حصہ ربّ العباد کی طرف سے، ایک عید کے روز مجھے الہام ہوا تو میں نے اسے روح الامین کے قوت گویائی بخشنے سے حاضرین پر پڑھا۔بغیر کسی تحریر و تدوین کی مدد سے۔بے شک یہ (خدا کے نشانوں میں سے ایک عظیم نشان ہے۔کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس قسم کی عبارات میری طرح فی البدیہہ، زبانی ، پیش کر سکے۔اور لوگ عید کے دن کے انتظار کی مانند اس کی طباعت کے منتظر تھے اور ارادت اور اشتیاق رکھنے والے اس کے منظرِ عام پر آنے کے لئے چشم براہ تھے۔پس تعریف ہے اللہ کی جس نے انتظار کے بعد ان کو ان کا مقصود دکھا دیا اور انہوں نے اپنے مطلوب کو پھلوں سے جھکی ہوئی شاخوں والے باغ کی مانند پایا۔اور یہ حضرت باری کے احسان کا کرشمہ ہے اور لوگوں کو خوش بختی تک پہنچانے کی سواری ہے۔اور ملک کے قحط زدہ ہو جانے اور فساد کے عام ہونے کے بعد اللہ کی طرف سے رحمت کی بارش ہے اور تم یہ معارف بڑے بڑے ثقہ علماء کی رقم کردہ منتخب تحریروں میں بھی نہیں پاؤ گے بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جو رب الکائنات کی طرف سے مجھے وحی کئے گئے ہیں۔یہ کامل اظہار ہے۔اور کیا مسیح کے بعد بھی اخفاء ہے اور کیا خاتم الخلفاء کے بعد بھی کوئی راز سر بمہر ہے۔اور یہ جائے تعجب نہیں کہ تو خاتم الائمہ سے ایسے نکات سنے جو تم نے اس سے قبل علماء امت سے نہیں سنے۔بلکہ تعجب پر تعجب تو یہ ہوتا کہ مسیح موعود، امام منتظر اور لوگوں کا حکم اور خاتم الخلفاء آتا اور پھر حضرت کبریا کی جانب سے کوئی نئی معرفت نہ لاتا ، اور عام علماء کی طرح کلام کرتا اور تاریکی اور روشنی کے درمیان واضح فرق نہ دکھلاتا اور میں نے اس رسالے کا نام خطبہ الہامیہ رکھا ہے اور یہ مجھے میرے رب سے الہاماسکھایا گیا اور یہ عظیم نشان ہے۔اور یہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان میں باہتمام حکیم فضل دین بھیروی صاحب ۱۳۱۹ھ میں طبع ہوا)