خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 46

خطبه الهاميه ۴۶ اردو ترجمہ النَّفْسُ مِنْ مَّوْتِ الْغَرَارَةِ۔نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں اور وَهَذَا هُوَ مَعْنَى الْإِسْلَامِ یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے اور مسلمان وَحَقِيْقَةُ الْإِنْقِيَادِ النَّامِ وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کے لئے وَالْمُسْلِمُ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو۔اور اپنے نفس لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَلَهُ کی اونٹنی کو اس کے لئے قربان کر دیا ہو اور۔نَحَرَ نَاقَةَ نَفْسِهِ وَتَلَّهَا ذبح کے لئے پیشانی کے بل اس کو گرا دیا ہو لِلْجَبَيْنِ۔وَمَا نَسِيَ الْحَيْنَ اور موت سے ایک دم غافل نہ ہو۔پس فِي حِيْنِ۔فَحَاصِلُ الْكَلَامِ حاصل کلام یہ ہے کہ ذبیحہ اور قربانیاں جو اَنَّ النُّسُكَ وَالصَّحَايَا فِی اسلام میں مروج ہیں وہ سب اسی مقصود (1) الْإِسْلامِ هِيَ تَذْكِرَةٌ لِهَذَا کے لئے جو بذل نفس ہے بطور یاد دہانی ہیں۔الْمَرَامِ وَحَتْ عَلَى تَحْصِيْلِ اور اس مقام کے حاصل کرنے کے لئے هذَا الْمَقَامِ۔وَإِرْهَاصٌ ایک ترغیب ہے اور اس حقیقت کے لئے جو لِحَقِيقَةِ تَحْصُلُ بَعْدَ السُّلُوكِ سلوک تام کے بعد حاصل ہوتی ہے ایک السَّامِ فَوَجَبَ عَلى كُلّ ارہا ہے۔پس ہر ایک مرد مومن اور مُؤْمِنٍ وَّ مُؤْمِنَةٍ كَانَ يَبْتَغِى عورت مومنہ پر جو خدائے ودود کی رضا کی رِضَاءَ اللَّهِ الْوَدُوْدِ۔أَنْ طالب ہے واجب ہے کہ اس حقیقت کو سمجھے يفْهَمَ هَذِهِ الْحَقِيْقَةَ وَيَجْعَلَهَا اور اس کو اپنے مقصود کا عین قرار دے اور عَيْنَ الْمَقْصُوْدِ۔وَيُدْخِلَهَا اس حقیقت کو اپنے نفس کے اندر داخل کرے فِي نَفْسِهِ حَتَّى تَسْرِيَ فِي یہاں تک کہ وہ حقیقت ہر ذرہ وجود میں كُلّ ذَرَّةِ الْوُجُوْدِ۔وَلَا يَهْدَءُ داخل ہو جائے۔اور راحت اور آرام وَلَا يَسْكُنُ قَبْلَ اَدَاءِ هَذِهِ اختیار نہ کرے جب تک کہ اس قربانی کو الضَّحِيَّةِ لِلرَّبِّ الْمَعْبُودِ اپنے رب معبود کے لئے ادا نہ کرلے۔