خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 47

خطبه الهاميه ۴۷ اردو ترجمہ۔وَلَا يَقْنَعْ بِنَمُوْذَجِ وَقِشْرٍ اور جاہلوں اور نادانوں کی طرح صرف كَالْجُهَلَاءِ وَالْعُمْيَان بَلْ نمونہ اور پوست بے مغز پر قناعت نہ کر۔يُؤْذِي حَقِيْقَةَ أَضْحَاتِهِ بیٹھے۔بلکہ چاہیے کہ اپنی قربانی کی حقیقت کو وَيَقْضِيْ بِجَمِيعِ حَصَاتِهِ بجالا وے اور اپنی ساری عقل کے ساتھ وَرُوْحِ تُقَاتِهِ رُوحَ الْقُرْبَانِ اور اپنی پر ہیز گاری کی رُوح سے قربانی کی هذَا هُوَ مُنْتَهَى سُلُوكِ رُوح کو ادا کرے۔یہ وہ درجہ ہے جس پر السَّالِكِيْنَ۔وَغَايَةُ مَقْصَدِ سالکوں کا سلوک انتہا پذیر ہوتا ہے اور الْعَارِفِينَ۔وَعَلَيْهِ يَخْتَتِمُ عارفوں کا مقصد اپنی غایت کو پہنچتا جَمِيْعُ مَدَارِجِ الْأَنْقِيَاءِ۔وَ ہے۔اور اس پر تمام درجے پر ہیز گاروں بِهِ يَكْمُلُ سَائِرُ مَرَاحِلِ کے ختم ہو جاتے ہیں اور سب منزلیں الصَّدِيقِينَ وَالْأَصْفِيَاءِ۔وَ راستبازوں اور برگزیدوں کی پوری ہو إِلَيْهِ يَنْتَهِي سَيْرُ الْأَوْلِيَاءِ جاتی ہیں۔اور یہاں تک پہنچ کر سیر اولیاء وَإِذَا بَلَغْتَ إِلى هَذَا فَقَدْ کا اپنے انتہائی نقطہ تک جا پہنچتا ہے۔اور بَلَّغْتَ جُهْدَكَ إِلَى الْإِنْتِهَاءِ جب تو اس مقام تک پہنچ گیا تو تو نے اپنی وَفُرْتَ بِمَرْتَبَةِ الْفَنَاءِ کوشش کو انتہا تک پہنچا دیا اور فنا کے مرتبہ فَحِيْنَئِذٍ تَصِلُ شَجَرَةُ تک پہنچ گیا۔پس اس وقت تیرے سلوک کا سُلُوكِكَ إِلَى أَتَمَ النَّمَاءِ درخت اپنے کامل نشو و نما تک پہنچ جائے گا وَتَبْلُغُ عُنقُ رُوحِكَ اور تیری رُوح کی گردن تقدس اور (۸)۔إلى لُعَاعِ رَوْضَةِ الْقُدْسِ بزرگی کے مرغزار کے نرم سبزہ تک پہنچ وَالْكِبْرِيَاءِ۔كَالنَّاقَةِ الْعَنْقَاءِ جائے گی۔اُس اونٹنی کی مانند جس کی إِذَا أَوْصَلَتْ عُنُقَهَا إِلی گردن لمبی ہو اور اُس نے اپنی گردن کو الشَّجَرَةِ الْحَضْرَاءِ وَ بَعْدَ ایک سبز درخت تک پہنچا دیا ہو اور اس کے۔