خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 41

خطبه الهاميه ۴۱ تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا ) بلند کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔ پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اُسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے جن نشانوں کی پہلے تکذیب ہو چکی وہ ہمارے سید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیئے گئے۔ لہذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے جو بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچاؤ مگر خود شریرانہ مقابلہ مت کرو۔ جو شخص ایک شخص کو اس غرض سے تلخ دواد یتا ہے کہ تا وہ اچھا ہو جائے وہ اس سے ائے وہ اس سے نیکی کرتا ہے ایسے آدمی کی نسبت ہم نہیں کہتے کہ اُس نے بدی کا بدی سے مقابلہ کیا۔ ہر ایک نیکی اور بدی نیست سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ پس چاہیے کہ تمہاری نیست کبھی ناپاک نہ ہو تا تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ۔ یہ اشتہار منارہ کے بننے کے لئے لکھا گیا ہے مگر یاد رہے کہ مسجد کی بعض جگہ کی عمارات بھی ابھی نا درست ہیں اس لئے یہ قرار پایا ہے کہ جو کچھ منارة لمسیح کے مصارف میں لمس سے بچے گا وہ مسجد کی دوسری عمارت پر لگا دیا جائے گا ۔ یہ کام بہت جلدی کا ہے۔ دلوں کو کھولو اور خدا کو راضی کرو ۔ یہ روپیہ بہت سی برکتیں ساتھ لے کر پھر آپ لوگوں کی طرف واپس آئے گائیں اس سے زیادہ کہنا نہیں چاہتا۔ اور ختم کرتا ہوں اور خدا کے سپرد۔