خطبة اِلہامِیّة — Page 28
خطبه الهاميه ۲۸ طور پر یہ سلسلہ اس ملک میں پھیل گیا۔سو یہ ایسا امر ہے کہ ان کے لئے جو آنکھیں رکھتے ہیں ایک نشان ہے۔اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا تو ان مولویوں کی کوششوں سے کب کا نابود ہو جاتا۔مگر چونکہ یہ خدا کا کاروبار اور اس کے ہاتھ سے تھا اس لئے انسانی مزاحمت اس کو روک نہیں سکی۔طلوب که اب اس مسجد کی تکمیل کے لئے ایک اور تجویز قرار پائی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسجد کی شرقی طرف جیسا کہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء ہے ایک نہایت اونچا منارہ بنایا جائے اور وہ منارہ تین کاموں کے لئے مخصوص ہو : - اول یہ کہ تا مؤذن اس پر چڑھ کر پنج وقت بانگ نماز دیا کرے اور تا خدا کے پاک نام کی اونچی آواز سے دن رات میں پانچ دفعہ تبلیغ ہو اور تا مختصر لفظوں میں پنج وقت ہماری طرف سے انسانوں کو یہ ندا کی جائے کہ وہ ازلی اور ابدی خدا جس کی تمام انسانوں کو پرستش کرنی چاہیے صرف وہی خدا ہے جس کی طرف اس کا برگزیدہ اور پاک رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم رہنمائی کرتا ہے۔اس کے سوانہ زمین میں نہ آسمان میں اور کوئی خدا نہیں۔دوسرا مطلب اس منارہ سے یہ ہوگا کہ اس منارہ کی دیوار کے کسی بہت اونچے حصے پر ایک بڑا لالٹین نصب کر دیا جائے گا جس کی قریباً ایک سٹور و پیہ یا کچھ زیادہ قیمت ہوگی۔یہ روشنی انسانوں کی آنکھیں روشن کرنے کے لئے دُور دُور جائے گی۔تیسرا مطلب اس منارہ سے یہ ہوگا کہ اس منارہ کی دیوار کے کسی اونچے حصے پر ایک بڑا گھنٹہ جو چار سو یا پانسو روپیہ کی قیمت کا ہوگا نصب کر دیا جائے گا تا انسان اپنے وقت کو پہچانیں اور انسانوں کو وقت شناسی کی طرف توجہ ہو۔یہ تینوں کام جو اس منارہ کے ذریعہ سے جاری ہوں گے ان کے اندر تین حقیقتیں مخفی ہیں۔اول یہ کہ بانگ جو پانچ وقت اونچی آواز سے لوگوں کو پہنچائی جائے گی اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ اب واقعی طور پر وقت آگیا ہے کہ لا الہ الا اللہ کی آواز ہر ایک کان تک پہنچے۔یعنی اب وقت خود بولتا ہے کہ اُس ازلی ابدی زندہ خدا کے سوا جس کی طرف