خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 27

خطبه الهاميه ۲۷ ضمیمه خطبه العامية بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اشتہار چنده منارة امسیح بخرام که وقت تو نزد یک رسید و پائے محمد یاں برمنار بلند تر محکم افتاد یہ وہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے جس کو شائع ہوئے ہیں برس گزر گئے ) خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے قادیاں کی مسجد جو میرے والد صاحب مرحوم نے مختصر طور پر دو بازاروں کے وسط میں ایک اونچی زمین پر بنائی تھی اب شوکتِ اسلام کے لئے بہت وسیع کی گئی اور بعض حصہ عمارات کے اور بھی بنائے گئے ہیں لہذا اب یہ مسجد اور رنگ پکڑ گئی ہے۔یعنی پہلے اس مسجد کی وسعت صرف اس قدر تھی کہ بمشکل دوسو آدمی اس میں نماز پڑھ سکتا تھا لیکن اب دو ہزار کے قریب اس میں نماز پڑھ سکتا ہے اور غالبا آئندہ اور بھی یہ مسجد وسیع ہو جائے گی۔میرے دعوے کی ابتدائی حالت میں اس مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے زیادہ سے زیادہ پندرہ یا ہیں آدمی جمع ہوا کرتے تھے لیکن اب خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ تین سو یا چارسونمازی ایک معمولی اندازہ ہے اور کبھی سات سو یا آٹھ سو تک بھی نمازیوں کی نوبت پہنچ جاتی ہے۔لوگ دُور دُور سے نماز پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔یہ عجیب خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں نے بہت زور مارا کہ ہمارا سلسلہ ٹوٹ جائے اور درہم برہم ہو جائے لیکن جوں جوں وہ بیخ کنی کے لئے کوشش کرتے گئے اور بھی ترقی ہوتی گئی اور ایک خارق عادت