خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 247

خطبة الهامية ۲۴۷ اردو ترجمہ قدرث، والرسل أُقتتُ۔فلما قلنا اور رسول وقت مقررہ پر لائے جاچکے اور جب إن زمان أمة موسى كان بين هذه هم قرونِ ثلاثہ کی حد بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے الأمم الثلاث أطول الأزمنة کہتے ہیں کہ اُمتِ موسیٰ کا زمانہ ان تینوں وكان زمان أمة عيســى نـصـفـه امتوں میں سے سب سے لمبا زمانہ تھا اور عیسی وكان نصف هذا النصف زمان علیه السلام کی امت کا زمانہ اس سے نصف تھا أخيار هذه الأمة نظرًا إلى تحديد القرون الثلاثة، بطل هذا اور اس امت کے بہترین لوگوں کا زمانہ مذکورہ نصف کا نصف تھا تو مذکورہ اعتراض باطل ہو الاعتراض، وانكشف الأمر على جاتا ہے اور اس شخص پر حقیقت کھل جاتی ہے الذي يطلب الحق بسلامة جو سلیم فطرت اور صحت نیت سے حق کو معلوم الطوية وصحة النية، وثبت کرنا چاہتا ہے اور قطعی اور یقینی طور پر یہ بالقطع واليقين أن زمان الأمة ☆۔ثابت ہو جاتا ہے کہ امت محمد یہ مرحومہ کا المرحومة المحمدية قليل في الحقيقة من زمان الأمة الموسوية زمانه امت موسی“ اور امت عیسی کے زمانہ والعيسوية۔وهذه منة منا على سے فی الحقیقت کم ہے اور فرقہائے اسلام میں المخالفين من الفرق الإسلامية، سے مخالفین پر یہ ہمارا احسان ہے اور کسی الحاشية - قد صرح رسول الله حاشیہ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح فرما دی صلى الله عليه و سلم بان المراد ہے کہ ان امتوں سے مراد جو پہلے گزرچکیں یہو وو نصاریٰ من الامم الذين خلوا من قبل ھم ہیں۔پس جھگڑنے والے کے لئے کوئی راہ باقی نہیں۔669 اليهود و النصاری فلاسبيل لمن کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ”فَمَنْ “ ماری۔اما سمعت قول رسول الله ( که ضالین یہود و نصاری کے سوا اور کون ہیں ) فمن، ففكر و أمعن۔ثم نقول على نہیں سنا پس غور وفکر سے کام لے۔پھر ہم بطور تنزل سبيل التنزل ان وقت بعث نبينا کہتے ہیں کہ ہمارے نبی مصطفی " کی بعثت کا وقت