خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 216

خطبة الهامية اردو ترجمہ وتعليم التوراة والإنجيل، فاسأل کی تعلیم کے مابین بہت بعد ہے۔پس تو ان الذين قبلوا وساوس لوگوں سے پوچھ لے جنہوں نے دجال کے الدجال۔إن هذا التعليم يهدى وساوس کو قبول کر لیا ہے۔یقیناً یہ تعلیم اس راہ للتي هي أقوَمُ، ليس فيه إفراط کی طرف ہدایت دیتی ہے جو سب سے زیادہ ولا تفريط، ولا ترک مصلحة معتدل ہے۔نہ اس میں افراط ہے اور نہ تفریط۔وحكمة، ولا ترك مقتضى نه مصلحت و حکمت کو چھوڑنا ہے اور نہ وقت الوقت والحال، بل هو یجری اور حال کے تقاضے کو نظر انداز کرنا ہے۔تحت مجارى الأوامر الشريعة بلکہ وہ فطری شرعی اوامر اور قوت قدسیہ کے الفطرية وفتاوى القوة القدسية| فتاوی کے تقاضوں کے تحت چلتی ہے۔اور ولا يميل عن الاعتدال۔وقد قدر اعتدال سے نہیں ہٹتی۔اور ازل سے یہ مقدر کیا من الأزل أن المسيح الموعود جاچکا ہے کہ مسیح موعود اس قابلِ تعریف تعلیم کی يُشيع هذا التعليم المحمود حق ویسی اشاعت کرے جیسا کہ اشاعت کا حق الإشاعة، ليميت السعداء قبل ہے تا خوش نصیبوں کو قیامت والی موت سے موت الساعة، فهناك يموت قبل ہی موت دے دے۔پس اس موقع پر الصالحون من كمال الإطاعة، نیک لوگ کمالِ اطاعت سے مر جائیں گے۔وهذا الـمـوت يُعطى للقلوب اور یہ موت صافی اور سلیم دلوں کا ہی نصیب السليمة الصافية، ويشربون ٹھہرتی ہے۔وہ فنا کا جام پیتے ہیں اور دوئی كأس المحوية، ويغيبون في بحر کا لبادہ اتار پھینکنے کے بعد بحر وحدت میں گم الوحدة بعد نَضْوِ لباس الغيرية۔ہو جاتے ہیں۔اور وہ لوگ جو بد بخت ہوئے وأما الذين شقوا فيرد عليهم في آخر کار ان پر طرح طرح کی وباؤں سے یا آخر الأمـر رجــس مـن السماء جنگوں اور خونریزی سے آسمان سے عذاب بأنواع الوباء ، أو بالمحاربات وارد ہو گا۔اور حضرت کبریاء کی تقدیر کے