خطبة اِلہامِیّة — Page 213
خطبة الهامية ۲۱۳ اردو ترجمہ على القوة القدسية القاضية کرنے والی قوت قدسیہ پر ہے جو نشاةِ الموجودة في النشأة الإنسانية انسانیہ میں ہی موجود ہے اور مراتب فنا میں الموصلة إلى كمال تام في كمال تام تک پہنچاتی ہے ۔ اس کی موجودگی مراتب المحوية، فلا يبقى معها ميں نفسانى تصرفات کی کوئی گنجائش رہ نہیں منفذ للتصرفات النفسانية، لما جاتی کیونکہ اس میں فطری شہادت پر عمل ہوتا فيه عمل على الشهادة الفطرية ہے ۔ جب کہ تو رات اور انجیل انسان کو اس وأما التوراة والإنجيل فيتركان حد پر چھوڑ جاتی ہیں جو پاک فطری شہادت الإنسان إلى حد هو أبعد من سے بہت دور ہے او ر قوتِ غضبیہ کے الشهادة الفطرية القدسية، وأقرب افراط يا قوتِ واہمہ کی تفریط کے دخل کے إلى دخل إفراط القوة الغضبية، أو بہت قریب ہے حتی کہ اہل عقل کے تفريط القوة الواهمة، حتى يمكن يمـ نزد یک بعض مواقع پر انتقام لینے والے أن يُسمى المنتقم في بعض کو موذی بھیڑ یا کہنا بھی ممکن ہو گا یا بغیر محل المواضع ذئبا مؤذيـا عنـد کے مثلاً بیوی کی بدکاری دیکھ کر عفو اور العقلاء ، أو يُسمى الذى عفا فی چشم پوشی کرنے والے کو بھی غیرت مند اور غير محله وأغضى مثلا عند رؤية باحيا شخص کے نزدیک بے غیرت اور بے حیا فسق أهله ديونا وقيحًا عند أهل کہنا بجا ہو گا۔ اس لئے بعض مواقع پر تو اس الغيرة و الحياء۔ و لذالک تری آدمی کو جسے عفو کی تعلیم بڑی پسند ہے، دیکھتا ہے في بعض المواضع رجلًا سَرَّہ کہ وہ عفو اور رحمت کی حقیقت کو ترک کر تعليم العفو يترك حقيقة العفو بیٹھتا ہے اور غیرتِ انسانی کی حدود سے والرحمة، ويجاوز حدود الغيرة تجاوز کر جاتا ہے کیونکہ اہل عقل کے الإنسانية۔ فإن العفو في كل محل نزدیک ہر موقع پر معاف کر دینا قابل تعریف ليــس بـمـحـمـود عند العاقلین نہیں ہے اسی طرح غور و فکر کرنے والوں کے ج