خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 212

خطبة الهامية ۲۱۲ اردو ترجمہ الرجل المحمّدی فقد أُمر له آن کرے۔اور کسی بھی معاملہ کا حتمی فیصلہ فطرتی يتبع الشريعة الفطرية كما يتبع شريعت كى گواہی کے بعد ہی کیا جائے۔اس ملت کی الشريعة القانونية، ولا يقطع أمرًا کی فطرت سے وابستگی کی وجہ سے اسلام کو دینِ إلا بعد شهادة الشريعة الفطرية، فطرت کا نام دیا گیا ہے۔اسی کی طرف ولذالك سُمّى الإسلام دین اشارہ کرتے ہوئے ہمارے نبی ﷺ نے الفطرة للزوم الفطرة لهذه الملة، فرمایا ہے کہ خواہ فتوی دینے والے تجھے فتویٰ وإليه أشار نبينا صلى الله علیه دیتے رہیں تب بھی تو اپنے دل سے پوچھ۔وسلم استَفْتِ قلبك ولو پس تو دیکھ کہ آپ ﷺ نے کس طرح أفتاك المفتون "فانظر كيف فطرتی شریعت کی طرف رغبت دلائی ہے رغب في الشريعة الفطرية ولم اور علماء کے اقوال پر ہی بس نہیں فرمائی۔يقنع على ما قال العالمون پس کامل مسلمان وہ ہے جو دونوں شریعتوں فالمسلم الكامل من يتبع کی اتباع کرتا ہے اور دونوں آنکھوں سے الشريعتين، ويـنـظـر بالعينين، دیکھتا ہے سوا سے صحیح راستہ کی طرف ہدایت فيهدى إلى الصراط ولا يخدعه دی جاتی ہے اور دھوکہ بازا سے دھو کہ نہیں الخادعون۔ولذالك ذكر الله دے سکتے۔اسی لئے اللہ نے اسلام کی في محامد الإسلام أنه شريعة خوبیاں بیان کرتے ہوئے ذکر کیا کہ وہ فطرية، حيث قال فِطْرَتَ دین فطرت ہے جیسا کہ فرمایا فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ! اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا یہ امر۔۔وهذا من أعظم فضائل هذه الملة اس ملت کے فضائل اور اس شریعت کے و مناقب تلك الشريعة فإنه اوصاف عالیہ میں سے عظیم ترین ہے کیونکہ يوجد في هذا التعليم مدار الأمر اس تعلیم میں ہر معاملہ کا انحصار اس فیصلہ لے اللہ کی فطرت کو اختیار کر ( وہ فطرت ) جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (الروم: ۳۱)