خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 211

خطبة الهامية ۲۱۱ اردو ترجمہ ما بقى فيه حركة ولا هوى ولا اور نہ ہی ان حالتوں میں سے کوئی اس کی طرف ب إليه شيء من هذه منسوب کی جاتی ہے جیسا کہ وہ مُردوں کی طرف العوارض كما لا يُنسب إلى منسوب نہیں کی جاتی۔اور کوئی شک نہیں کہ یہ الموتى۔ولا شك أن هذه حالت ایک موت ہے اور یہ مراتب عبودیت کا الحالة موت وإنها منتهى مراتب انتہائی مقام اور نفسانی زندگی سے نکل جانا ہے اور العبودية، والخروج من العيشة اس پر حضرت احدیت کی طرف جانے والے النفسانية، وإليها تنتهى سير اولیاء کا سفر اپنی انتہا کو پہنچتا ہے۔یہی قرآن کی الأولياء الذاهبين إلى الحضرة تعلیم ہے اور باقی ہر تعلیم رحمن خدا کی طرف جذب الأحدية هذا تعلیم القرآن میں اس سے کم تر ہے۔عقل مندوں اور غور وفکر وكلُّ تعلیم دون ذالک فی کرنے والوں کے نزدیک سلوک اور عرفان کے الجذب إلى الرحمن، وليس مراتب میں سے اس کے بعد اور کوئی مرتبہ نہیں۔بعده مرتبة من مراتب السلوک تورات نے لوگوں کو انتقام کی طرف مائل کر دیا۔والعرفان عند ذوی العقل اس کے نزدیک ظالم کے لئے اب کوئی جائے فرار والفكر والإمعان۔وإن التوراة اور كوئی راہ نجات نہیں اور عیسی نے اپنی امت کے أمال الناس إلى الانتقام، وعنده لئے یہ حکم جاری کیا کہ اگر ان میں سے کسی کے ایک لا مفر للظالم ولا خلاص ، وإن گال پر تھپڑ مارا جائے تو وہ اپنا دوسرا گال بھی تھپڑ عيسى شرع لأمته أن أحدهم إذا مارنے والے کے آگے رکھ دے اور قصاص نہ لطم في خده وضع الخد الآخر طلب کرے۔بلا شبہ یہ دونوں گروہ فطری شریعت لمن لطمه ولا يطلب القصاص سے مناسبت نہیں رکھتے اور محض قانونی احکام کی فلا شك أن هذين الحزبين لا پیروی کرتے ہیں۔جب کہ محمدی شخص کو یہ حکم دیا يشاورون الشريعة الفطرية، ولا گیا ہے کہ وہ جیسے قانونی شریعت کی پیروی کرتا يتبعون إلا الأوامر القانونية۔وأما ہے ایسا ہی وہ فطرتی شریعت کی بھی اتباع