خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 208

خطبة الهامية ۲۰۸ اردو ترجمہ فهل من طالب من ذوى الحصاة، کوئی طلب گار ہے۔اور کیا کوئی قوم متلاشی وهل من قوم يطلبون؟ وإنی ہے۔میں یقیناً اپنے رب کی طرف سے اسلام جُعِلتُ من ربّی آيةً للإسلام کے حق میں ایک نشان اور خدائے علام کی طرف ث وحُجَّةً من الله العلام، فسوف سے ایک حجت بنایا گیا ہوں۔پس منکرین عنقریب يعلم المنكرون أسمع بهم جان لیں گے۔جس دن وہ اس کے پاس آئیں گے۔☆۔وأَبْصِرُ يومَ يأتونه، وقد گے اس دن وہ کیا خوب سننے والے اور کیا خوب أنفدوا الأعمار في هذه دیکھنے والے ہوں گے! انہوں نے اس دنیا میں عميا، ويُذكرون فلا يبالون اندھوں کی طرح عمریں ختم کر دیں۔اور انہیں وإني جئت لأنقل الناس یاد دہانی کرائی جاتی رہی لیکن وہ پرواہ نہیں من الوجود إلى العدم کرتے۔میں اس لئے آیا ہوں تا ربّ العزت بحكم ربّ العزّة ، و أرى الساعة کے حکم سے لوگوں کو وجود سے عدم کی طرف لے قبل الساعة، وترون أن جاؤں اور قیامت سے پہلے قیامت دکھاؤں۔الحاشية - قد قلنا غير مرّة حاشیہ۔ہم نے بارہا یہ کہا ہے کہ وجود سے ان النقل من الوجود الى العدم۔عدم کی طرف منتقلی تلوار اور تیر سے نہ ہو گی ليس بالسيف و السنان۔بل بامر بلکہ جزا سزا کے مالک خدا کے حکم سے من الله الديان۔فان الله كتب فی ہوگی۔اللہ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ كتبه ان علامة ظهور المسيح مسیح موعود کے ظہور کی علامت ہے کہ تم کئی الموعود ان تسمعوا اخبار اطراف اور کئی علاقوں میں جنگوں کی المحاربات في الأفاق والاقطار خبریں اور کئی شہروں میں وبا پھیل جانے واخبار شيوع الوباء في الديار۔ثم کی خبریں سنو گے۔پھر مسیح کی ایک علامت من علامة المسيح انه يجذب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو تقوی کے نقطہ ء کمال الناس الى كمال نقطة التقاة۔وان کی طرف کھینچ لائے گا اور یہ موت کی ہی هو الا نوع من الممات۔منه ایک قسم ہے۔منه